فیفا ورلڈ کپ 2026 کے 10 ابھرتے ہوئے جادوگر، جن پر پوری دنیا کی نظریں ہوں گی

رونالڈو اور میسی کے بعد فٹبال کی دنیا میں کس کی حکمرانی؟
شائع 03 جون 2026 10:25am

فٹبال کے شائقین کی نظریں ایک بار پھر فیفا ورلڈ کپ 2026 پر جمی ہوئی ہیں، جہاں عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین کھلاڑی، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، اپنی چھٹی ورلڈ کپ شرکت کے لیے میدان میں اتریں گے۔ دونوں سپر اسٹارز نے 2006 کے ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کی تھی اور گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا بھر کے مداحوں کو اپنے کھیل سے متاثر کرتے آ رہے ہیں، تاہم اس بار شائقین کی نظریں جہاں پرانے اور منجھے ہوئے کھلاڑیوں پر ہوں گی وہیں کچھ ایسے نوجوان بھی میدان میں اتر رہے ہیں جو پوری دنیا کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دنیا اب ان نئے چہروں کی تلاش میں ہے جو مستقبل میں فٹبال پر اپنی حکمرانی قائم کر سکیں۔ ماہرین نے ایسے ہی 10 باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کی نشاندہی کی ہے جو ورلڈ کپ 2026 میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا سکتے ہیں۔

ترکیہ کے 21 سالہ کینان یلدیز ان نوجوان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ جرمنی میں پیدا ہونے والے یلدیز نے یووینٹس کے ساتھ ابتدائی عمر میں ہی کامیابیاں حاصل کیں اور اب ترکیہ کی 24 سال بعد ورلڈ کپ میں واپسی کے دوران ٹیم کی امیدوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ وہ اٹیکنگ مڈفیلڈر اور ونگر دونوں پوزیشنوں پر کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

 (ترکیہ کے 21 سالہ کینان یلدیز)
(ترکیہ کے 21 سالہ کینان یلدیز)

ارجنٹینا کے نیکو پاز کو مستقبل کا بڑا اسٹار تصور کیا جا رہا ہے۔ 21 سالہ مڈفیلڈر نے اٹلی کی سیری اے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12 گول اور 7 اسسٹ فراہم کیے۔ انہیں ایسے کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو آنے والے برسوں میں ارجنٹائن کے لیے میسی کے بعد تخلیقی کردار سنبھال سکتے ہیں۔

 (ارجنٹینا کے 21 سالہ نیکو پیز)
(ارجنٹینا کے 21 سالہ نیکو پیز)

برازیل کے 19 سالہ ونگر رایان بھی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ انہوں نے واسکو ڈی گاما کے لیے شاندار سیزن گزارنے کے بعد انگلش کلب بورنماؤتھ میں جگہ بنائی اور پریمیئر لیگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ قومی ٹیم میں شمولیت کے بعد انہوں نے ایک دوستانہ میچ میں اپنا پہلا بین الاقوامی گول بھی اسکور کیا۔

 (برازیل کے 19 سالہ ونگر رایان)
(برازیل کے 19 سالہ ونگر رایان)

میزبان ممالک میں شامل میکسیکو کے نوجوان مڈفیلڈر گلبرٹو مورا نے کم عمری میں ہی کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ وہ میکسیکن لیگ میں گول کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بنے اور بعد ازاں قومی ٹیم کی نمائندگی بھی کی۔ گزشتہ برس گولڈ کپ جیتنے والی میکسیکو ٹیم کا حصہ بن کر انہوں نے مزید شہرت حاصل کی۔

 (میسیکو کے 17 سالہ گلبرٹو مورا)
(میسیکو کے 17 سالہ گلبرٹو مورا)

آئیوری کوسٹ کے 19 سالہ یان دیومانڈے نے جرمن کلب آر بی لیپزگ میں اپنی رفتار، ڈربلنگ اور گول اسکورنگ صلاحیت سے سب کو متاثر کیا ہے۔ بنڈس لیگا میں شاندار سیزن گزارنے کے بعد انہیں جرمنی کی لیگ کے بہترین نوجوان کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا۔

 (آئیوری کوسٹ کے 19 سالہ یان دیومانڈے)
(آئیوری کوسٹ کے 19 سالہ یان دیومانڈے)

انگلینڈ کے نیکو اوریلی نے مانچسٹر سٹی میں اپنی ورسٹائل صلاحیتوں کی بدولت نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ دفاعی اور جارحانہ دونوں کردار ادا کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل انہیں اپنی ٹیم کے لیے اہم ہتھیار تصور کرتے ہیں۔

 (انگلینڈ کے 21 سالہ نیکو او ریلی)
(انگلینڈ کے 21 سالہ نیکو او ریلی)

جرمنی کے 18 سالہ لینارٹ کارل نے بائرن میونخ کے ساتھ اپنے پہلے ہی سیزن میں متاثر کن کھیل پیش کیا۔ اگرچہ ان کا جسمانی اسٹرکچرنسبتاً کمزور سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کی تیز رفتاری، مہارت اور گول کرنے کی صلاحیت نے انہیں جرمن فٹبال کا ابھرتا ہوا اسٹار بنا دیا ہے۔

(جرمنی کے 18 سالہ لینارٹ کارل)
(جرمنی کے 18 سالہ لینارٹ کارل)

کروشیا کے 19 سالہ باصلاحیت سینٹر بیک لوکا ووشکووچ بھی نوجوان ٹیلنٹ میں نمایاں نام ہیں۔ لمبے قد اور متاثرکن کارکردگی کی بدولت انہوں نے جرمن لیگ میں اپنی شناخت بنائی اور یورپ کے بڑے کلبوں کی توجہ حاصل کی۔ انہیں یورپ کے ابھرتے ہوئے بہترین نوجوان دفاعی کھلاڑیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

 (کروشیا کے 19 سالہ لوکا ووشکووچ)
(کروشیا کے 19 سالہ لوکا ووشکووچ)

جاپان کے 20 سالہ اسٹرائیکر کیسوکے گوٹو اپنی قومی ٹیم کے کم عمر ترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ 6 فٹ 3 انچ قد کے اس اسٹرائیکر نے رواں سیزن میں 13 گول اور 8 اسسٹ کیے، جس کے باعث انہیں جاپان کی جارحانہ لائن میں ایک اہم کھلاڑی تصور کیا جا رہا ہے۔

(جاپان کے 20 سالہ کیسوکے گوٹو)
(جاپان کے 20 سالہ کیسوکے گوٹو)

عراق کے 22 سالہ علی جاسم بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ بغداد میں پیدا ہونے والے جاسم نے مختلف ممالک کی لیگز میں کھیلنے کے بعد اپنی صلاحیتوں کو نکھارا ہے۔ عراق کی ٹیم 40 برس بعد ورلڈ کپ میں واپسی کر رہی ہے اور جاسم کو اس نئی نسل کے اہم کھلاڑیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

 (عراق کے  22 سالہ علی جاسم)
(عراق کے 22 سالہ علی جاسم)

فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 11 جون سے شمالی امریکا میں ہوگا۔ جہاں ایک طرف دنیا میسی اور رونالڈو جیسے عظیم کھلاڑیوں کی ممکنہ آخری ورلڈ کپ شرکت کا مشاہدہ کرے گی، وہیں دوسری طرف نوجوان ستاروں کی ایک نئی کھیپ عالمی فٹبال کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔