فیفا ورلڈ کپ دیکھنے والے ہوشیار! ایک عام سی چیز آپ کو جیل پہنچا سکتی ہے
فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے میچز دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم کا رخ کرنے والے شائقین کے لیے اہم انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ سکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نہ صرف اسٹیڈیم میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں گرفتاری اور قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں اب چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔
دنیا بھر سے فٹ بال کے شائقین اس تاریخی ایونٹ میں شرکت کے لیے میزبان ممالک کا رخ کر رہے ہیں، جبکہ پہلی مرتبہ 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے میدان میں اتریں گی۔ اسی تناظر میں فیفا اور میزبان ممالک کی انتظامیہ نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔
حکام کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق اسٹیڈیمز میں سگریٹ نوشی اور الیکٹرانک سگریٹ (ویپ) کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ خاص طور پر میکسیکو میں ویپنگ مصنوعات سے متعلق قوانین انتہائی سخت ہیں۔
اگر کسی مسافر کے پاس ایک الیکٹرانک سگریٹ پایا گیا تو اسے ضبط کرنے کے ساتھ جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایک سے زائد ویپنگ ڈیوائسز رکھنے کی صورت میں بھاری جرمانے یا قانونی کارروائی، حتیٰ کہ جیل کی سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
شائقین کو اسٹیڈیم آنے سے قبل اپنے سامان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اسٹیڈیم کے اندر ہینڈ بیگ، بڑے بیک پیک اور غیر شفاف بیگز لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صرف مخصوص سائز کے شفاف بیگز یا چھوٹے پرس ساتھ رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔
انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسٹیڈیم کے باہر سامان محفوظ رکھنے کی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہوگی، لہٰذا غیر ضروری سامان ہوٹل یا رہائش گاہ پر ہی چھوڑ کر آنا بہتر ہوگا۔
فیفا کی جانب سے جاری کردہ ضوابط کے مطابق ہر قسم کا اسلحہ، چاقو، پیپر اسپرے، الیکٹرک شاکر اور دیگر ذاتی دفاعی آلات سختی سے ممنوع ہوں گے۔ اسی طرح دھماکہ خیز مواد، فلیئرز، اسموک بم اور پٹاخے ساتھ لانے والوں کو فوری طور پر اسٹیڈیم سے نکال کر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید برآں زہریلے، تابکار، تیزابی اور انتہائی آتش گیر مواد بھی ممنوعہ اشیاء کی فہرست میں شامل ہیں۔ پینٹ اسپرے، بعض اقسام کے لائٹرز اور دیگر خطرناک کیمیکل بھی سکیورٹی حکام ضبط کر سکتے ہیں۔ ایسے سامان کو بھی اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی جو بطور ہتھیار استعمال ہو سکتا ہو، مثلاً بڑی چھتریاں، ہیلمٹ، اوزار، بلٹ پروف جیکٹس اور فولڈنگ کرسیاں۔
الیکٹرانک آلات کے حوالے سے بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ڈرونز، ریموٹ کنٹرول طیارے، لیزر پوائنٹرز، پیشہ ورانہ ویڈیو کیمرے، آڈیو ریکارڈنگ کا سامان اور ہائی فریکوئنسی ڈیوائسز اسٹیڈیم کے اندر نہیں لے جائے جا سکیں گی۔ اس کے علاوہ ٹرائی پوڈ، سیلفی اسٹک اور اضافی بیٹریوں یا پاور بینکس کی زائد تعداد بھی ممنوع ہوگی۔
کھانے پینے کی اشیاء سے متعلق قوانین کے تحت باہر سے لایا گیا کھانا، مشروبات، شیشے کی بوتلیں، کین، تھرموس اور کولرز اسٹیڈیم کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ البتہ طبی ضرورت یا شیر خوار بچوں کی خوراک کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ شائقین صرف ایک لیٹر تک گنجائش والی خالی اور شفاف پلاسٹک بوتل اپنے ساتھ لا سکیں گے، جسے اندر موجود واٹر اسٹیشنز سے بھرا جا سکے گا۔
اسٹیڈیم کے ماحول کو محفوظ اور منظم رکھنے کے لیے شور پیدا کرنے والے آلات پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ وووزیلہ، ایئر ہارن، سیٹیاں اور دیگر بلند آواز پیدا کرنے والے آلات اندر لے جانا ممنوع ہوگا۔ اسی طرح کھیلوں کا سامان، غبارے، ہوا سے بھرے کھلونے، اسکیٹ بورڈز، اسکوٹرز اور بچوں کی گاڑیاں بھی اسٹیڈیم میں داخل نہیں کی جا سکیں گی۔
فیفا نے شائقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر اور اسٹیڈیم روانگی سے قبل تمام ضوابط کا بغور مطالعہ کریں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی، جرمانے، میچ سے محرومی یا قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔















