ایک امتحانی اسکینڈل نے مودی حکومت کے خلاف ملک گیر بغاوت کیسے شروع کی؟

شدید غصے میں مبتلا طالبعلموں کی جانب سے بھارت کے وزیر تعلیم کا استعفا مانگا جا رہا ہے۔
شائع 04 جون 2026 01:41pm

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حکومت ان دنوں شدید تنازعات کی زد میں ہے جس کی وجہ بھارت کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ ’سی بی ایس ای‘ کے نتائج میں دھاندلی اور سرکاری نوکری کے لیے لازمی امتحان کے پرچوں کا لیک ہونا ہے۔

رواں سال سترہ فروری سے دس اپریل کے درمیان ہونے والے امتحانات کے نتائج تیرہ مئی کو جاری ہوئے جس کے بعد سے پیدا ہونے والے بحران نے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔

اس پورے تنازع کی بنیاد سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی جانب سے امتحانی کاپیوں کی جانچ کے لیے متعارف کرایا گیا نیا ڈیجیٹل سسٹم ہے، جس میں کاپیوں کو اسکین کر کے کمپیوٹر پر چیک کیا جاتا ہے۔ اس نظام میں دھندلی اسکیننگ، تکنیکی خرابیوں اور سرور ڈاؤن ہونے کی شکایات سامنے آئیں۔

حیرت انگیز طور پر بورڈ نے امتحانات سے محض چھ ماہ قبل تکنیکی شرائط کو نرم کر کے یہ ٹھیکہ ایک ایسی نجی کمپنی کو دیا تھا جو پہلے بھی ایک امتحانی تنازع میں نام بدل کر کام کر چکی ہے۔ اُس امتحانی تنازع میں 20 طلبہ نے فیل ہونے کے بعد مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔

اب جو حالیہ اسکینڈل سامنے آیا ہے، اسے بے نقاب کرنے میں اسکول کے نوجوان طلبہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ویدانت شریواستو نامی طالب علم نے سوشل میڈیا پر ثبوت شیئر کیے کہ تعلیمی بورڈ نے جو اسکین شدہ کاپی اسے دکھائی وہ اس کی تھی ہی نہیں کیونکہ اس پر لکھائی مختلف تھی۔

ویدانت نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ میں نے پورے سال پڑھائی کی، اپنی نیند، ذہنی سکون اور گھومنا پھرنا سب قربان کر دیا اور اب مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ فزکس کا جو پیپر چیک ہوا وہ میرا تھا بھی یا نہیں۔

بورڈ نے بعد میں غلطی تسلیم کر کے ویدانت کا رزلٹ تو درست کر دیا۔ لیکن اسی طرح کے دیگر نوجوانوں نے بورڈ کی ویب سائٹ میں سیکیورٹی کے بڑے نقائص اور پاس ورڈ چوری ہونے کے خطرات دنیا کے سامنے پیش کرنے شروع کردیے۔

نئی دہلی کے سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ سوسائٹی کے بانی پرانیش پرکاش نے نظام کی خامیوں پر بات کرتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا کہ اس کا سارا قصور اس ناکارہ نظام پر عائد ہوتا ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند نے کہا کہ یہ ناکامی کوئی پہلی بار سامنے نہیں آئی ہے، طلبہ اداروں پر اپنا بھروسہ کھو چکے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکا ہو رہا ہے لیکن وہ اسے اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں کیونکہ کسی بھی قسم کے احتجاج کو جرم بنا دیا جاتا ہے۔

اس صورتحال پر بھارتی سیاست میں شدید ہلچل مچی ہوئی ہے اور اپوزیشن جماعتیں مودی حکومت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر بضد ہیں۔

حکومت نے عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور سیکریٹری کا تبادلہ کر دیا ہے لیکن اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے اسے معاملے کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔

راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ہمارا مطالبہ آج بھی وہی ہے کہ وزیر تعلیم کو برطرف کیا جائے اور معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے بھی کہا کہ ان تبادلوں نے لاکھوں بچوں اور والدین کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔

اس تمام صورت حال میں اچانک انٹری کاکروچ جنتا پارٹی کی ہوئی، جس نے تعلیمی نظام میں نقائص پر نئی دہلی میں بڑے احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔