معروف ایرانی نژاد فرانسیسی مصنفہ مرجان ستراپی انتقال کر گئیں

پرسپولس (Persepolis) کی خالق فنکارہ کے انتقال کی تصدیق فرانسیسی ایوان صدر نے کر دی۔
شائع 04 جون 2026 06:50pm

مشہور گرافک ناول پرسپولس (Persepolis) کی مصنفہ اور ایرانی نژاد فرانسیسی فنکارہ مرجان ستراپی 56 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی وفات کی تصدیق فرانسیسی ایوان صدر نے کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق پیرس میں جمعرات کے روز فرانسیسی ایوان صدر (ایلِیزے) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مرجان ستراپی کا شمار فرانس کی نمایاں ثقافتی شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہیں ایک ایسی فنکارہ کے طور پر یاد کیا گیا جو آزادی کی علم بردار تھیں اور جن کے کام نے عالمی سطح پر گہرا اثر چھوڑا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق مرجان ستراپی کی موت اداسی کے باعث ہوئی، جو ان کے شوہر، سویڈش اداکار، پروڈیوسر اور اسکرین رائٹر میٹیاس رپا کی وفات کے تقریباً ایک سال بعد پیش آئی۔ تاہم ان کی موت کی حتمی وجہ سامنے نہیں لائی گئی۔

مرجان ستراپی 1969 میں تہران میں پیدا ہوئیں اور ایک فکری و سیاسی ماحول میں پرورش پائی۔ نوجوانی میں انہیں ویانا بھیجا گیا، بعد ازاں وہ ایران واپس آئیں اور پھر فرانس منتقل ہو گئیں جہاں انہوں نے فنونِ لطیفہ کی تعلیم حاصل کی۔

ان کا سب سے معروف کام گرافک ناول Persepolis ہے، جس میں انہوں نے ایران کے 1979 کے اسلامی انقلاب اور اس کے بعد کی زندگی کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں پیش کیا۔ یہ کتاب عالمی سطح پر بے حد مقبول ہوئی، اور اس پر بننے والی اینیمیٹڈ فلم کو کانز فلم فیسٹیول میں جیوری پرائز ملا جبکہ اسے آسکر کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔

ستراپی نے فلمی دنیا میں بھی بطور ہدایت کار کام کیا، جن میں The Voices اور Radioactive شامل ہیں، جو معروف سائنسدان میری کیوری کی زندگی پر مبنی فلم ہے۔

انہوں نے پیرس 2024 اولمپکس کے لیے ایک بڑا آرٹ ورک بھی تخلیق کیا تھا، جس میں ایفل ٹاور کے گرد کھلاڑیوں کی عکاسی کی گئی تھی۔

مرجان ستراپی جلاوطنی، خواتین کی آزادی اور آمریت کے خلاف اپنے واضح مؤقف کی وجہ سے بھی پہچانی جاتی تھیں۔ 2025 میں انہوں نے فرانس کا اعلیٰ ترین اعزاز ’لیجن آف آنر‘ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کی وجہ فرانس کے ایران سے متعلق رویے کو “منافقت” قرار دیا تھا۔

ان کے انتقال کو ادبی، فنی اور ثقافتی حلقوں میں ایک بڑے نقصان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مرجان ستراپی کا کام جدید گرافک ناول کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ ان کے گرافک ناول Persepolis نے نہ صرف انہیں عالمی شہرت دی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سماجی و سیاسی تاریخ کو ذاتی کہانی کے انداز میں پیش کرنے کا نیا اسلوب بھی متعارف کرایا۔

پرسپولس (Persepolis) قدیم فارسی سلطنت کا ایک اہم تاریخی شہر تھا جو آج کے ایران میں شیراز کے قریب واقع ہے۔ اس نام کا مطلب عام طور پر “فارسیوں کا شہر” یا “فارسی سلطنت کا دارالحکومت” لیا جاتا ہے۔ یہ شہر ہخامنشی دور میں شاہی تقریبات اور ریاستی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔

آج پرسپولس ایک عالمی ورثہ (یونیسکو سائٹ) ہے، جہاں اس کے کھنڈرات قدیم ایرانی تہذیب کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی نام کو مرجان ستراپی نے اپنے گرافک ناول کے لیے استعمال کیا تاکہ وہ ایران کی تاریخ، انقلاب اور اپنی ذاتی زندگی کے تجربات کو علامتی انداز میں پیش کر سکیں۔