'370 کی بریانی': ایک جملہ نوجوان کی زندگی برباد کرگیا
انٹرنیٹ کی ایک وائرل ویڈیو نے بائیس سالہ نوجوان کو مشکل میں ڈال دیا، بریانی کی قیمت سے متعلق گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا اور پھر اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے، جسے ’370 روپے کی بریانی‘ کا نام دیا جا رہا ہے، ایک نوجوان کے لیے سنگین مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ اس ویڈیو میں، جو ایک اسٹینڈ اپ کامیڈین کے شو کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی، بھارت کے علاقے گڑگاؤں سے تعلق رکھنے والے بائیس سالہ ہمانشو جانگرا نے خواتین سے متعلق ایسی باتیں کیں جنہیں عوام کی جانب سے سخت ناپسند کیا گیا۔
ویڈیو کے مطابق، ہمانشو نے کہا کہ انہوں نے ایک لڑکی کے ساتھ کھانا کھایا جس پر 370 روپے خرچ ہوئے، اور بعد میں جب لڑکی نے ان سے ڈراپ کرنے کو کہا، تو وہ حیران رہ گئے۔ ان کے مطابق، چونکہ انہوں نے کھانے کی قیمت ادا کی تھی، اس لیے وہ کچھ ’واپس‘ حاصل کرنے کے حقدار تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس خرچ کو وصول کریں گے۔
اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے، جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل تھے، ہمانشو کے اس رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ردعمل بڑھتا دیکھ کر انہوں نے معذرت کی اور اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی ختم کر دیا، لیکن یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔
گڑگاؤں کی کمپنی ’اسٹاروک ڈیزائن‘ نے، جہاں ہمانشو کام کر رہے تھے، ان کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔ کمپنی کے بانی، وویک وشوکرما نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں سینکڑوں پیغامات اور ای میلز موصول ہوئیں، اور جب انہوں نے خود ویڈیو دیکھی تو وہ ان بیانات کو غلط اور ناپسندیدہ پایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ باتیں ان کی کمپنی کے اصولوں کے خلاف ہیں اور نئی نسل پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
وویک وشوکرما نے یہ بھی بتایا کہ کمپنی نے اس معاملے کا جائزہ لیا اور دیگر ملازمین، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، سے بات کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی نے بھی ہمانشو کے کام یا رویے کے بارے میں شکایت نہیں کی، اور سب نے انہیں پیشہ ور، محنتی اور بااخلاق قرار دیا۔ لیکن، چونکہ یہ مسئلہ کمپنی کے باہر سے شروع ہوا تھا اور کمپنی کے ماحول کو متاثر کر رہا تھا، اس لیے انہوں نے ہمانشو کے ساتھ علیحدگی کا فیصلہ کیا۔
وویک وشوکرما نے ہمانشو کے لیے ہمدردی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہمانشو اپنی غلطی پر غور کریں اور اس سے سبق سیکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک انسان غلطی کر سکتا ہے، اور اسے اس کے نتائج کا سامنا کرنا چاہیے، لیکن ہمیں ایک ایسا معاشرہ نہیں بننا چاہیے جو یہ سمجھتا ہو کہ لوگ اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں، غورنہیں کرتے یا بدل نہیں سکتے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ کے اثرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ ایک بائیس سالہ نوجوان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔
تاہم، سوشل میڈیا صارفین وویک وشوکرما کے اس موقف سے متفق نہیں لگتے۔ بہت سے لوگوں نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سوچ رکھنے والے شخص کے لیے ہمدردی کا اظہار کرنا غلط ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ اگر وہ اپنے خاندان کی خواتین کے بارے میں ایسی سوچ رکھتے تو کیا وہ پھر بھی ایسا ہی کہتے؟ ایک اور نے لکھا کہ اس شخص نے اپنے عمل کے نتائج بھگت لیے ہیں، اسے یہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسی سوچ رکھنے والے شخص کے لیے ہمدردی کا کوئی مقام نہیں ہے، خواہ وہ جوان ہو یا اس کا کام ٹھیک ہو۔
یوں یہ معاملہ صرف ایک وائرل ویڈیو تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے سوشل میڈیا کے اثر، ذاتی رائے، اور پیشہ ورانہ زندگی کے درمیان تعلق پر ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔















