امن معاہدے کے تاریخی دن ایرانی فٹبال ٹیم امریکا پہنچ گئی
امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایرانی قومی فٹبال ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اپنے پہلے میچ کے لیے امریکا پہنچ گئی۔ ٹیم لاس اینجلس پہنچی جہاں پیر کو وہ نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جنگ اور پھر امن معاہدے کے باعث اس میچ کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔
ایرانی قومی فٹبال ٹیم اتوار کو فیفا ورلڈ کپ کے سلسلے میں پہلی بار امریکا پہنچ گئی۔ ٹیم لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری اور اسی روز پریس کانفرنس بھی کی، جبکہ اسی دن امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے اعلان نے اس آمد کو مزید اہم بنا دیا۔
ایرانی اسکواڈ میکسیکو کے شہر تیجوانا سے مختصر پرواز کے ذریعے لاس اینجلس پہنچا۔ روانگی کے وقت ہوٹل کے باہر موجود شائقین نے ٹیم کو بھرپور انداز میں رخصت کیا۔ ایران اپنا پہلا گروپ میچ پیر کو لاس اینجلس اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گا۔
ایران کے ہیڈ کوچ امیر قلعہ نویی نے پریس کانفرنس میں مترجم کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عظیم، باوقار اور مضبوط ایرانی قوم کی نمائندگی پر فخر ہے۔
انہوں نے کہا، ”مجھے امید ہے کہ فٹبال خوشی اور تفریح کا ذریعہ بنے گا اور مختلف ثقافتوں اور ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دے گا۔“
گروپ جی میں ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والا یہ مقابلہ ایسے وقت میں کھیلا جا رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس پس منظر نے میچ کی فضا کو مزید حساس اور اہم بنا دیا ہے۔
ایران نے گزشتہ ماہ اپنے ورلڈ کپ بیس کیمپ کو امریکی ریاست ایریزونا کے ایک اسپورٹس کمپلیکس سے میکسیکو منتقل کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے تھے۔
اب ایرانی ٹیم کو اپنے تینوں گروپ میچز کے لیے میکسیکو سے امریکا آنا جانا پڑے گا۔ امیر قلعی نویی کے مطابق مسلسل سفر اور ایرانی فٹبال فیڈریشن کے بعض ارکان کو امریکی ویزے جاری نہ کیے جانے سے ٹیم متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ آئندہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک سرکاری تقریب کے دوران دستخط کیا جائے گا۔
اس سے قبل تیجوانا میں ایرانی ٹیم کے ہوٹل کے باہر بڑی تعداد میں شائقین جمع ہوئے۔ انہوں نے ”ٹیم ملی“ کے نعرے لگائے اور کھلاڑیوں کا بھرپور استقبال کیا۔
کئی کھلاڑیوں نے شائقین کی جانب ہاتھ ہلایا جبکہ وفد کے بعض ارکان نے اپنے موبائل فونز سے اس منظر کی ویڈیوز بھی بنائیں۔
ایک مداح نے زرد رنگ کا بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا: ”ایران، تم کبھی تنہا نہیں چلو گے، میکسیکو تمہارے ساتھ ہے۔“
ایک موقع پر شائقین نے ہسپانوی زبان میں نعرہ لگایا، ”ایران، بھائی! اب تم میکسیکن ہو۔“
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج بھی ہوٹل کے باہر موجود تھے اور جب ٹیم کی بس روانہ ہوئی تو متعدد شائقین کافی دور تک اس کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔
تیجوانا میں ایرانی کمیونٹی کی تعداد تقریباً 20 افراد پر مشتمل ہے، جبکہ لاس اینجلس ایران سے باہر دنیا کی سب سے بڑی ایرانی کمیونٹی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
لاس اینجلس میں دسیوں ہزار ایرانی نژاد امریکی آباد ہیں اور شہر میں ایرانی تارکین وطن کی ایک نمایاں آبادی موجود ہے جسے اکثر ”تہرانجلس“ کہا جاتا ہے۔
یہ 1930 میں ورلڈ کپ کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی میزبان ملک نے ایسے ملک کی میزبانی کی ہو جس کے ساتھ وہ حالیہ جنگ میں شامل رہا ہو۔
















