فیفا ورلڈ کپ میں جاپانی شائقین کی صفائی کی عادت نے پھر سب کے دل جیت لیے

جاپان میں صفائی صرف بڑے عالمی ایونٹس تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔
شائع 15 جون 2026 01:25pm

فیفا ورلڈ کپ کے میدانوں سے سامنے آنے والی ایک منفرد اور متاثر کن کہانی نے دنیا بھر کے کھیلوں کے شوقین افراد ہی نہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے۔ جاپانی شائقین نے میچوں کے اختتام پر اسٹیڈیم کی صفائی ستھرائی کر کے اخلاقیات، نظم و ضبط اور سماجی ذمہ داری کی ایسی مثال قائم کی جسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

عام طور پر سنسنی خیز فٹ بال مقابلوں یا کسی بھی کھیل کے بعد اسٹیڈیم میں خالی بوتلیں، کھانے پینے کے پیکٹس اور دیگر کچرا بکھرا رہ جاتا ہے، تاہم جاپانی شائقین نے اس روایت کو بدل کر رکھ دیا۔

میچ ختم ہوتے ہی جاپانی شائقین نے اپنے ساتھ لائے گئے نیلے رنگ کے بڑے پلاسٹک بیگز نکالے اور اپنی نشستوں کے اردگرد ہی نہیں بلکہ پورے اسٹینڈز میں پھیلا ہوا کچرا جمع کرنا شروع کر دیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ انہوں نے صرف اپنے ملک کے شائقین کا چھوڑا ہوا کچرا نہیں اٹھایا بلکہ دیگر ممالک کے تماشائیوں کی جانب سے چھوڑا گیا کوڑا کرکٹ بھی خوش دلی سے اکٹھا کیا۔ ان کے لیے یہ عمل اس بات سے قطع نظر تھا کہ ان کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی یا شکست، کیونکہ ان کے نزدیک صفائی ایک بنیادی سماجی ذمہ داری ہے۔

اس خوبصورت منظر کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی دنیا بھر میں جاپانی قوم کے کردار، سماجی شعور اور نظم و ضبط کی تعریفوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر جاپانی معاشرے میں یہ احساسِ ذمہ داری کہاں سے آتا ہے؟ اس کا جواب ان کی ثقافت، تعلیم اور صدیوں پر محیط فکری روایات میں پوشیدہ ہے۔

جاپانی زبان میں ایک تصور ”اَتارومائے“ پایا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ سے انسان فائدہ اٹھائے، اسے صاف ستھرا چھوڑنا ایک بالکل فطری اور معمول کی بات ہے۔ ان کے نزدیک صفائی کوئی غیر معمولی کارنامہ نہیں بلکہ ”معاشرتی ذمہ داری“ اور میزبان کے لیے ”احترام و شکرگزاری“ کا اظہار ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان میں صفائی صرف بڑے عالمی ایونٹس تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ جاپانی شہروں میں عوامی مقامات پر کچرے کے ڈبے نسبتاً کم نظر آتے ہیں کیونکہ شہری اپنا کچرا اپنے ساتھ گھر لے جا کر مناسب طریقے سے ٹھکانے لگاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں کچرے کو پلاسٹک، کاغذ، شیشہ اور دیگر اقسام میں الگ الگ تقسیم کرنے کا سخت نظام موجود ہے، جس پر ہر شہری ذمہ داری سے عمل کرتا ہے۔

اسی نظم و ضبط کی ایک اور مثال جاپان کی تیز رفتار ٹرین شنکانسین ہے، جس کی صفائی کو دنیا بھر میں ”سات منٹ کا حیرت انگیز کارنامہ“ کہا جاتا ہے۔ ٹرین کے آخری اسٹیشن پر پہنچنے کے فوراً بعد صفائی کا عملہ صرف سات منٹ کے اندر پوری ٹرین کو اس انداز میں صاف کر دیتا ہے کہ وہ نئی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے پالتو کتے کو سیر کے لیے لے جاتا ہے تو وہ خصوصی بیگ اور پانی کی بوتل ساتھ رکھتا ہے تاکہ جانور کی وجہ سے ہونے والی گندگی کو فوری طور پر صاف کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اس رویے کی جڑیں جاپان کے مذہبی اور فکری نظریات میں بھی موجود ہیں۔ قدیم مذہب شنتو میں صفائی کو روحانی پاکیزگی اور خدا سے قربت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ بدھ مت کے فلسفے میں جھاڑو دینا اور صفائی کرنا ایک قسم کی روحانی مشق اور خود احتسابی کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے جو انسان کے اندر سے غرور اور انا کو کم کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ جاپانی بچوں کی تربیت بھی اس سوچ کو مضبوط بناتی ہے۔ جاپان کے بیشتر سرکاری اسکولوں میں صفائی کے لیے مستقل خاکروب نہیں ہوتے بلکہ روزانہ آخری گھنٹی کے بعد 15 سے 20 منٹ کا وقت ”سوجی“ کے نام سے مخصوص ہوتا ہے۔ اس دوران طلبہ، اساتذہ اور حتیٰ کہ اسکول کے پرنسپل بھی خود کلاس رومز، راہداریوں اور دیگر مقامات کی صفائی کرتے ہیں۔ اس عمل سے بچوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ جس جگہ کو وہ استعمال کرتے ہیں، اس کی حفاظت اور صفائی بھی ان ہی کی ذمہ داری ہے۔

جاپانی معاشرے کا ایک اہم سنہری اصول ہے کہ ”کسی دوسرے کے لیے تکلیف یا زحمت کا باعث نہ بنیں“۔ جاپانی زبان میں دوسروں کو پریشان کرنے کو ”میواکو“ کہتے ہیں، اور اسے بہت بڑا عیب سمجھا جاتا ہے۔ سڑک پر کچرا پھینکنا یا اپنے حصے کی صفائی نہ کرنا دوسرے شہریوں کے لیے زحمت کا سبب بنتا ہے، اس لیے جاپانی خود پر یہ فرض سمجھتے ہیں کہ ان کی ذات سے کسی دوسرے کو کوئی پریشانی نہ ہو۔

فیفا ورلڈ کپ میں جاپانی شائقین کی جانب سے اسٹیڈیم کی صفائی دراصل ایک وقتی مہم نہیں بلکہ ایک ایسی قومی سوچ اور تربیت کا عملی اظہار ہے جو بچپن سے ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔

جاپان کی اس حکمتِ عملی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر کسی معاشرے کو صاف ستھرا اور بااخلاق بنانا ہو، تو اس کے لیے صرف سخت قوانین کافی نہیں ہوتے، بلکہ اس کی بنیاد بچپن کی تربیت، خود احتسابی اور دوسروں کے آرام کا خیال رکھنے کے فکری جذبے پر رکھنی پڑتی ہے۔