ایران ڈیل دوسرے مرحلے میں داخل، روس کو بھی معاہدہ کرلینا چاہیے: صدر ٹرمپ

میرے خیال میں اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے ایران معاہدے پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے: ٹرمپ کا دعویٰ
شائع 16 جون 2026 03:35pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، امید ہے کہ اس مرحلے میں مذاکرات نسبتاً آسان ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا، اہم بات یہ ہے کہ ایران کے پاس اب کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے خیال میں مستقبل میں اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے ایران کے ساتھ معاہدے پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

فرانس کے شہر ایویان میں جاری ’جی 7 سربراہی اجلاس‘ کے موقع پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی، سرمایہ کاری اور ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ اعلان کردہ معاہدہ کامیاب ثابت ہونا چاہیے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ مجوزہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات نسبتاً آسان ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں آگے بڑھنے کے لیے اب سازگار ماحول پیدا ہو چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے امریکا کی جانب سے ایران میں سرمایہ کاری کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ نہیں لگا رہا، ایسی باتیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو منصفانہ اور بہترین قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے معاملے پر قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قطر کے ساتھ کام کرنا خوشگوار تجربہ رہا ہے اور وہ قطر اور اس کے عوام سے بے حد متاثر ہیں۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ نہ صرف خطے بلکہ ایران کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی دوست ممالک مدد طلب کرتے ہیں، قطر تعاون کے لیے تیار رہتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران معاہدے پر دستخط سے کچھ دیر قبل بیروت پر کیے گئے حملے پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ کارروائی پسند نہیں آئی جس پر اسرائیل کو تحفظات سے آگاہ کردیا تھا۔

انہوں نے لبنان پر اسرائیلی جارحیت کو محدود نوعیت کا تنازع قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں لگتا ہے کہ اسرائیل لبنان پر حملے جاری بھی رکھے تو ایران کے ساتھ معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو لبنان کے معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کو مشورہ دیا تھا کہ حزب اللہ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے شام کو کردار ادا کرنے دیا جائے کیوں کہ ان کے خیال میں شام اس معاملے کو بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم نکتہ یہی ہے جو

معاہدے میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔