نابالغ بچے کے نان نفقہ اور وراثتی حقوق پر عدالت کا بڑا فیصلہ

والدین کسی معاہدے کے ذریعے بچے کو نان نفقہ یا وراثت کے حق سے محروم نہیں کر سکتے، عدالت
شائع 17 جون 2026 11:18am

لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچوں کے نان نفقہ اور وراثتی حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ والدین کسی بھی سمجھوتے یا معاہدے کے ذریعے نابالغ بچوں کے قانونی حقوق ختم نہیں کر سکتے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر کیس نمٹا دیا، تاہم فیصلے میں نابالغ بچوں کے حقوق سے متعلق اہم قانونی نکات بھی واضح کیے گئے ہیں۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے فریقین کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے بعد درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھی۔ عدالت کے سامنے پیش کیے گئے معاہدے میں نابالغ بچی کے نان نفقہ اور مستقبل کے وراثتی حقوق سے دستبرداری کی شقیں بھی شامل تھیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے یا بچی کا نان نفقہ باپ کی قانونی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے، جس سے کسی معاہدے کے ذریعے فرار حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ماں بھی نابالغ بچے کے نان نفقہ کے حق سے مستقل طور پر دستبردار نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ حق دراصل بچے کا ہے، والدین کا نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ وراثتی حقوق سے محرومی کی کوئی بھی شق قانوناً مؤثر نہیں اور نہ ہی مستقبل میں نافذ العمل ہو سکتی ہے۔ عدالت کے مطابق کسی نابالغ کو نان نفقہ یا وراثت کے حق سے محروم کرنا آئین اور قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

فیصلے میں فیملی کورٹس کو ہدایت کی گئی کہ ایسے معاملات میں نابالغ بچوں کے بہترین مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے اور ان کے حقوق کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ بچوں کے حقوق قابلِ سودا نہیں اور والدین کے باہمی اختلافات یا سمجھوتے ان حقوق کو متاثر نہیں کر سکتے۔ تاہم درخواست واپس لینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا گیا۔