امریکی فوج کا ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی ختم کرنے کا اعلان

ایرانی بندرگاہوں کی جانب بحری آمدورفت پر تمام امریکی پابندیاں ختم، معاہدے پر عملدرآمد جاری
شائع 18 جون 2026 11:18pm

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں پر عائد سمندری ناکا بندی ختم کر دی گئی ہے۔ بیان کے مطابق امریکی افواج اب ایران آنے یا وہاں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی تمام بحری آمدورفت پر عائد ناکا بندی ختم کر دی گئی ہے۔

بیان کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے خلاف سمندری ناکا بندی کے نفاذ سے متعلق تمام کارروائیاں روک دی ہیں اور اب ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تجارتی اور دیگر جہازوں کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی۔

سینٹ کام نے کہا کہ یہ اقدام حالیہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا حصہ ہے، جس کے بعد خطے میں بحری تجارت اور جہاز رانی کی سرگرمیوں کی بحالی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے جہاز خطے میں موجود رہیں گے تاکہ معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ فریقین اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری کریں۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج معاہدے کے نفاذ اور خطے میں بحری راستوں کے محفوظ اور آزاد استعمال کو یقینی بنانے کے لیے صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھیں گی۔

معاہدے کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ 60 روز کے دوران وسیع تر مذاکرات ہوں گے، جن میں ایرانی جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ تاہم سوئٹزرلینڈ میں متوقع اگلے مرحلے کے مذاکرات اور ممکنہ دستخطی تقریب کے حوالے سے تاحال غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔

معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جب کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ بحری ٹریکرز کے مطابق کئی تجارتی اور تیل بردار جہاز معاہدے کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر چکے ہیں۔

معاہدے کے متن کے مطابق امریکا ایران کی تیل برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا، جب کہ ایرانی معیشت کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی راہ بھی ہموار کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایران نے بین الاقوامی نگرانی میں افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق اقدامات پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران دونوں میں معاہدے پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض امریکی اور ایرانی حلقوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جب کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسے ”تاریخی معاہدہ“ قرار دیا ہے۔ چین، روس، قطر اور دیگر علاقائی ممالک بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کر چکے ہیں۔