لبنان: اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

اسرائیل حزب اللہ جنگ بندی میں امریکی و قطری مذاکرات کاروں اور ایران کی معاونت شامل ہے: امریکی عہدیدار
اپ ڈیٹ 19 جون 2026 07:17pm

امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد اسرائیل اور لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بھی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صیہونی فوج کے حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسی دوران اسرائیلی کابینہ کے وزراء کی جانب سے بھی نفرت انگیز بیانات سامنے آئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں اور یہ جنگ بندی جمعے کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے سے شروع ہوگی۔

امریکی عہدیدار کے مطابق اس جنگ بندی کو حتمی شکل دینے میں امریکی اور قطری مذاکرات کاروں نے کردار ادا کیا ہے جب کہ ایران نے بھی اس عمل میں معاونت فراہم کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعے کے روز جھڑپوں کے بعد دونوں فریق جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک رکنِ پارلیمان نے بتایا ہے کہ ایران نے حزب اللہ کو آگاہ کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک ایک جامع جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہو جائے۔

اسرائیل نے بھی حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل پر حملے رک جانے کی شرط پر یہ معاہدہ برقرار رہے گا۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ اس وقت جنگ بندی کی حالت میں ہیں لیکن یہ صورت حال حزب اللہ کی جانب سے کسی بھی حملے سے مشروط ہے۔

اسرائیلی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرتی ہے تو پھر صورت حال تبدیل ہو جائے گی اور دونوں فریق دوبارہ جنگ کی حالت میں آ جائیں گے۔

لبنان میں رات بھر جاری رہنے والے اسرائیلی حملوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دی تھی۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 18 افراد جاں بحق ہوئے۔

دوسری جانب جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک حملے میں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی خبر بھی سامنے آئی، جسے موجودہ کشیدگی کے دوران حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر سب سے مہلک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ تازہ کشیدگی جمعرات کے روز امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے لیے بھی ایک چیلنج بنی نظر آرہی تھی۔

دوسری جانب اسرائیلی وزراء کی جانب سے نفرت انگیز بیانات سے کشیدگی میں دوبارہ اضافے کے خدشات پیدا ہوتے نظر آرہے ہیں۔

اسرائیل کے دائیں بازو کے متعصب ترین وزیر اتمار بن گویر نے جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو حق ہے کہ وہ پورے لبنان کو جلا ڈالے۔

امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ شرط شامل ہے کہ امریکا، ایران اور ان کے اتحادی تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کریں گے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔