جو وزیر کہے راولا کوٹ والے کشمیری نہیں وہ کابینہ میں کیوں ہے؟ بلاول کی خواجہ آصف پر تنقید
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں وزیردفاع خواجہ آصف کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جو وزیر کہے راولا کوٹ والے کشمیری نہیں وہ اب تک کابینہ میں کیسے ہے؟ وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کے لیے بھی تیار نہیں، وزیراعظم اپنی کابینہ کو کنٹرول کریں ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت کے بعض وزرا وزیراعظم کی معاونت کے بجائے ان کے کام میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں، میں نے دو بار وزیراعظم کو بطوروزیراعظم ووٹ دیا ہے، جنہوں نے مسلسل اتحادیوں اور اپوزیشن کے ساتھ تعمیری روابط کی کوشش کی ہے تاہم بعض وزرا ایسے بیانات اور ایسے مشورے دیتے ہیں، جس سے ہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ موجودہ حکومت اور سیاسی جماعتوں نے آزاد جموں و کشمیر کا سیاسی حل نکالنے کی کوششیں کی ہیں تاہم انہوں نے ایک ایسے وزیر کی وفاقی کابینہ میں موجودگی پر سوال اٹھایا جس نے کہا تھا کہ راولاکوٹ کے لوگ کشمیری نہیں ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ایسے ریمارکس کو نہ صرف ایک سینئر سیاستدان بلکہ ملک کے وزیر دفاع کی طرف سے بھی برداشت کریں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے پوچھا کہ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران دیے گئے بیانات پر تنقید جائز ہے لیکن یہ ریمارکس دینے والے افراد نہ تو عوامی عہدہ رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ اسمبلی کے رکن ہیں تو پھر ہم اس طرح کے بیانات کو کیسے جواز بنا سکتے ہیں جب وہ وفاقی وزیر کی طرف سے آئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ رانا ثنا اللہ کا احترام کرتے ہیں اور نواز شریف کے کشمیر سے تعلق سے آگاہ ہیں تاہم بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کے اپنے سیاسی اور مقامی چیلنجوں کے ساتھ ساتھ، بعض وفاقی وزرا کے ریمارکس نے کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔
بلاول بھٹو نے کشمیر میں انتخابات کے حوالے سے ایک وفاقی وزیر کے بیان کا حوالہ دیا، جس میں وزیر نے دعویٰ کیا تھا کہ ”12 سیٹیں ہماری جیب میں ہیں“۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے ریمارکس نے کشمیر میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کو بہانہ فراہم کیا اور آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اب حکومت کے لیے ایسا مؤقف اختیار کرنے کا وقت نہیں ہے، جس سے سیاسی راہ ہموار کرنا مشکل ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایک اتحادی کے طور پر، ان کا مشورہ یہ ہوگا کہ مولانا فضل الرحمان کو حالات کو بہتر کرنے کا موقع فراہم کیا جائے اور ان کی تجویز کے مطابق مولانا فضل الرحمن کومظاہرین، وفاقی اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر پائیدار حل نکالنے دیا جائے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس مینڈیٹ ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی ٹیم کو کنٹرول کر سکیں۔ اگر وزرا ایسے متضاد بیانات دیتے رہے جو وزیراعظم کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے تو اس سے مزید رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔
کراچی سے (ایم کیو ایم) کے اراکین اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے ان کا کوئی مسئلہ نہیں، ان کی اپنی کابینہ کے ساتھی ان کے ساتھ سیاست کر رہے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر اپنے ساتھیوں کو گمراہ کر رہے ہیںاور آپ ان سے آپ کے حقوق لینے کے بجائے چاہتے ہیں کہ آپ سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو نشانہ بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیر اعظم اور حکومت ان کے مطالبات پورے نہیں کر رہے ہیں تو وہ حکومت چھوڑ دیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے اراکین سے سوال کیا کہ کیا کراچی زیادہ اہم ہے یا یہ سیٹیں؟ انہوں نے کہا کہ جہاں تک بلدیاتی نظام کا تعلق ہے تو یہ صرف پیپلز پارٹی کی حکومتوں میں برقرار ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت خوفزدہ ہے اور یونین کونسل کے انتخابات کرانے کو تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے چاہے وہ اسلام آباد میں ہو یا کہیں اور۔
بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 90 دنوں میں کرانے کے لیے قانون سازی کریں، انہیں اسلام آباد کے میئر کو اتنا بااختیار بنانا چاہیے کہ ہم ان کے معاشی اور انتظامی اختیارات سے متاثر ہوں لیکن پی ایم ایل ن ایسا نہیں کرتی۔ بلدیاتی نظام کراچی کے معزز اراکین کے لیے صرف ایک لالی پاپ ہے۔ پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ بلدیاتی نظام کے بہانے صرف ہمیں آپس میں لڑانے کے لیے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد اور پنجاب سمیت کسی بھی آئینی ترمیم سے قبل ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے جا رہی ہے اور انہوں نے اعلان کیا کہ جی بی میں بھی 90 دن میں بلدیاتی انتخابات کرائیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ وقت کسی کے سیاسی اختلافات پر توجہ دینے کا نہیں کیوں کہ ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے بجٹ کی منظوری کے عمل کو عاشورہ سے پہلے مکمل کرنے کا مطالبہ بھی کیا کیونکہ اراکین کو یوم عاشورہ کی وجہ سے اپنے گھروں کوواپس جانا پڑے گا۔
قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے تنہائی میں جو باتیں ہوئیں، وہ راز ہیں، ان سے احترام کا رشتہ ہے اور وہ ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں۔
جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم کو اجازت دیتا ہوں وہ بات ایوان میں بتا دیں، عوامی ایکشن کمیٹی کا خط موصول ہوا، جو حکومت کو بھجوایا ہے اب تک جواب نہیں ملا، کمیٹی نے آج لائحہ عمل دینا تھا وہ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے۔
















