'عالمی امن کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت انتہائی اہم ہے‘: ترک صدر اور شہباز شریف کی نیوز کانفرنس

صدر اردوان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو عالمی امن کے لیے اہم قرار دیا، وزیراعظم نے دوطرفہ تعلقات کو تاریخی اور مثالی کہا۔
شائع 04 جولائ 2026 07:53pm

ترکیہ کے شہر استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارت، دفاع، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ترک صدر نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو عالمی امن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اس معاہدے کو نقصان پہنچانے کی اسرائیلی جارحیت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کو ترکیہ آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر اردوان نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی موجودہ رفتار اطمینان بخش ہے اور مستقبل میں بھی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

ترک صدر نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) عالمی امن کے لیے نہایت اہم پیش رفت ہے اور وہ اس کامیابی پر پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس مفاہمتی عمل کو نقصان پہنچانے کی اسرائیلی کوششوں اور جارحیت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غزہ میں آج بھی بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور خطے میں مزید جارحیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان کے امن، ترقی اور خوش حالی کے لیے اقدامات قابلِ تعریف ہیں اور ترکیہ ہمیشہ ان کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت میں دونوں ممالک کا تعاون نمایاں طور پر آگے بڑھ چکا ہے اور اس شعبے میں مزید پیش رفت کی توقع ہے۔

ترک صدر نے بتایا کہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف پر بھی اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں مجوزہ خصوصی صنعتی زون پر ماہرین کام کر رہے ہیں، جب کہ متعلقہ وزارتیں اقتصادی زونز کے حوالے سے قریبی رابطے میں رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ کی کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر اور حکومت کی پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام کے درمیان تعلقات صرف سفارتی نہیں بل کہ دلوں کے رشتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی جنگِ آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں کی حمایت اور ہر مشکل وقت میں ترکیہ کی جانب سے پاکستان کی مدد دونوں ممالک کی تاریخی دوستی کا ثبوت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ زلزلوں، سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات کے دوران ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا، جب کہ مظفرگڑھ اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ترکیہ کی امداد تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے زلزلہ زدہ علاقوں کی بحالی اور سماجی و معاشی ترقی میں ترکیہ کے تعاون کو بھی سراہا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دو دل، ایک جان ہیں اور مولانا جلال الدین رومی اور علامہ محمد اقبال کی تعلیمات دونوں ممالک کے تعلقات کی فکری بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے مختلف شعبوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے اور پاکستان کو اس دیرینہ دوستی پر فخر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ترک سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ بزنس ٹو بزنس فورم میں انتہائی مفید ملاقاتیں ہوئیں، جب کہ صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ہونے والی بات چیت جامع، مثبت اور تعمیری رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دوطرفہ تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قبرص کے مسئلے پر ترکیہ کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتا ہے، جب کہ مسئلہ کشمیر پر ترکیہ کی دوٹوک اور مستقل حمایت پر بھی ترک قیادت کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنا کر نئی جہت دی جائے گی۔