امریکا۔ایران مفاہمت خطرے میں، ڈیڈ لاک کہاں ہے اور آگے کیا ہو سکتا ہے؟

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں اور ثالثی کی کوششوں کے درمیان خطے کی صورتِ حال غیر یقینی کا شکار ہے۔
اپ ڈیٹ 11 جولائ 2026 08:23pm

امریکا اور ایران ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں، لیکن دونوں فریق بیک ڈور سفارت کاری جاری رکھنے کے اشارے بھی دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی، فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں اور ثالثی کی کوششوں کے درمیان خطے کی صورتِ حال غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ یہ تنازع اس وقت کس موڑ پر کھڑا ہے، مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں یا نہیں اور آگے کیا ہو سکتا ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان 17 جون کو ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کے نام سے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا گیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں، امریکی فضائی کارروائیوں اور ایرانی جوابی حملوں کے بعد یہ معاہدے کا مستقبل خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال میں نیٹو سربراہان کانفرنس کے موقع پر کہہ چکے ہیں کہ ایران سے جنگ بندی معاہدہ ’ختم‘ ہو چکا ہے، لیکن امریکی حکام اب بھی مذاکرات جاری رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی حملوں نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان اس سال کے آغاز میں اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کے بعد اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا تھا۔

اگرچہ یہ مذاکرات فوری کامیابی پر منتج نہیں ہوئے تھے، تاہم انہوں نے مسلسل سفارتی رابطوں کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں گزشتہ ماہ ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا جسے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کا نام دیا گیا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان کیا معاہدہ ہوا تھا؟

17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک نے 60 روزہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل پر اتفاق کیا تھا۔

معاہدے کے اہم نکات میں:

  • ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کارروائیوں کا خاتمہ
  • لبنان سمیت تمام محاذوں پر کشیدگی کم کرنا
  • آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی
  • ایران پر بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی
  • ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ

معاہدے کے چند ہفتوں بعد ہی دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات لگانے لگے۔ امریکا کا الزام تھا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد واشنگٹن نے ایران میں متعدد اہداف پر حملے کیے۔

دوسری جانب ایران نے بحری جہازوں پر حملوں کے الزامات کو مسترد کیا۔ تہران کا کہنا تھا کہ امریکی حملے خود معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں اور امریکا نہ صرف ایران بل کہ لبنان سے متعلق شقوں پر بھی عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کا سب سے بڑا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کی تیل بردار تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جہازوں کو اسی راستے سے گزرنا چاہیے جس کی منظوری پاسدارانِ انقلاب نے دی ہے، جب کہ بعض بین الاقوامی بحری کمپنیاں عمان اور امریکی حمایت یافتہ پرانے بحری راستے استعمال کر رہی ہیں۔ اسی اختلاف نے آبنائے ہرمز کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا پہلا بڑا امتحان بنا دیا ہے۔

لبنان بھی اختلافی نکات میں شامل ہے۔ اگرچہ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں۔ ایران کا الزام ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھ کر معاہدے کی روح کو نقصان پہنچایا، جب کہ امریکا کا مؤقف ہے کہ اسرائیل اس مفاہمتی یادداشت کا باقاعدہ حصہ نہیں تھا۔ مبصرین کے مطابق اسی ابہام نے لبنان سے متعلق شقوں پر عمل درآمد کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دریں اثنا، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ’سی این این‘ کے مطابق ضلع صور کے قصبے المنصوری کے علاقے المشاع میں بھی ایک حملہ کیا گیا، لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 4,321 افراد ہلاک اور 12,207 زخمی ہو چکے ہیں۔

ابتدائی طور پر توقع کی جا رہی تھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کی تقریبات مکمل ہونے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو جائیں گے، تاہم حالیہ حملوں کے بعد کسی نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور مذاکراتی ٹیمیں اب بھی رابطے میں ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کم از کم عارضی طور پر متاثر ہوئی ہے، تاہم تکنیکی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور واشنگٹن اب بھی کسی حل تک پہنچنے کے لیے پُرعزم ہے۔

دوسری جانب ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے کیے تو اسے جواب دیا جائے گا اور تہران ہر قسم کے دفاع کے لیے تیار ہے۔ اسی دوران ایک سینئر امریکی عہدیدار نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کی آزادانہ آمدورفت کی اجازت نہیں دیتا تو دونوں فریق کبھی بھی جوہری ہتھیاروں سے متعلق حتمی مذاکرات کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے اور ممکنہ طور پر یہ اہم ملاقات سوئٹزرلینڈ میں ہو سکتی ہے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ بھی تھم گیا ہے، جب کہ خطے اور عالمی سطح پر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو دوبارہ پٹڑی پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق پاکستان، قطر، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے حالیہ دنوں میں امریکی اور ایرانی عہدیداروں سے رابطے کیے ہیں تاکہ صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے اور دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کی نئی تاریخ طے کی جا سکے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان پہنچے ہیں، تاکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق انتظامات پر بات چیت کی جا سکے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا ایران سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تمام بحری راستے کھلے رہیں گے، جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت یقینی بنائی جائے گی اور اس گزرگاہ پر کسی قسم کی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق قطر اور پاکستان سمیت دیگر ثالث ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کو بحال رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ عمان بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی، تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

معاہدے کی متنازع شقیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں میں موجود ابہام ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، مستقبل کے سیکیورٹی انتظامات اور لبنان سے متعلق نکات کی مختلف تشریحات کی جا رہی ہیں۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران نے جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جب کہ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں اور لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں نے معاہدے کی روح کو نقصان پہنچایا۔ مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو ان نکات کی وضاحت اولین ترجیح ہوگی۔

عالمی معیشت اور خطے پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اسی لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی توانائی کی قیمتوں، بحری تجارت اور عالمی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جب کہ بعض بحری کمپنیوں نے اضافی حفاظتی اقدامات بھی اختیار کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتِ حال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات خلیجی ممالک سے لے کر یورپ، ایشیا اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

علاقائی سطح پر بھی یہ بحران خلیجی ممالک، عراق، لبنان اور دیگر ہمسایہ ریاستوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان، قطر، عمان، سعودی عرب اور مصر سمیت متعدد ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

فی الحال تین امکانات سب سے زیادہ زیرِ بحث ہیں:

  • مذاکرات دوبارہ شروع ہوں اور متنازع شقوں پر نئی مفاہمت طے پا جائے۔
  • محدود فوجی دباؤ اور سفارتی کوششیں بیک وقت جاری رہیں۔
  • کشیدگی مزید بڑھے اور جنگ بندی یا مفاہمتی عمل مکمل طور پر ناکام ہو جائے۔

اس وقت امریکا اور ایران دونوں سخت بیانات دے رہے ہیں، تاہم بیک ڈور سفارت کاری اور ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اسی لیے مبصرین کے نزدیک موجودہ بحران ابھی فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ فریقین مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں یا خطہ ایک بار پھر وسیع تر تصادم کی طرف بڑھتا ہے۔