ارجنٹائن انگلینڈ سیمی فائنل؛ میچ کے لیے چُنے گئے ریفری اسماعیل الفتح کون ہیں؟

ارجنٹائن کے میچز میں ریفری کے فیصلے مسلسل توجہ کا مرکز رہے ہیں.
اپ ڈیٹ 15 جولائ 2026 10:59am

فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے سب سے بڑے مقابلوں میں سے ایک ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان سیمی فائنل ہونے جا رہا ہے۔ اس بڑے اور اہم سیمی فائنل میچ کو میدان میں کنٹرول کرنے کے لیے امریکہ کے ریفری اسماعیل الفتح کو چن لیا گیا ہے۔ یہ میچ بدھ کے روز اٹلانٹا کے اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جہاں دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچنے کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ریفریز کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ ورلڈ کپ کے میچ نمبر 102 کے لیے میچ آفیشلز کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس میچ میں اسماعیل الفتح کی مدد کے لیے ان کے ساتھی کوری پارکر اور کائل اٹکنز بھی میدان میں موجود ہوں گے، جن کا تعلق بھی امریکہ سے ہی ہے۔

44 سالہ اسماعیل الفتح فٹ بال کی دنیا میں کوئی نیا نام نہیں ہیں۔ ان کا شمارامریکا کے معروف فٹبال ریفریزمیں ہوتا ہے۔ وہ مراکش میں پیدا ہوئے لیکن اب امریکہ میں رہتے ہیں۔ اسماعیل الفتح امریکہ کی فٹ بال لیگ میں سال 2012 سے ریفری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ارجنٹائن کے مشہور کھلاڑی لیونل میسی بھی ان کے انداز سے اچھی طرح واقف ہیں۔ 2022 کے قطر ورلڈ کپ کے فائنل میں جب ارجنٹائن اور فرانس کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں اور لیونل میسی کی قیادت میں ارجنٹائن نے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، اس وقت اسماعیل الفتح چوتھے آفیشل کی حیثیت سے ریفری پینل کا حصہ تھے۔

موجودہ ورلڈ کپ میں بھی وہ اب تک تین اہم میچوں میں ریفری رہ چکے ہیں، جن میں نیدرلینڈز اور جاپان، یوراگوئے اور اسپین اور ناروے اور برازیل کے میچ شامل ہیں۔

ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان یہ مقابلہ کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ٹیمیں 2005 کے بعد پہلی مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، جبکہ ورلڈ کپ میں ان کی آخری ٹکر 2002 میں ہوئی تھی، جس میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کی تھی۔

اس ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کی سیمی فائنل تک رسائی کے دوران کئی ریفری فیصلے اور وی اے آر کے استعمال پر بحث بھی ہوتی رہی ہے۔ ٹورنامنٹ کے اپنے پہلے میچ میں الجزائر کے عیسیٰ ماندی کے خلاف فاؤل پر لیونل میسی کو ریڈ کارڈ نہ ملنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اسی طرح مصر کے خلاف میچ میں دوسرے ہاف میں کیے گئے ایک گول کو بلڈ اپ پلے میں فاؤل کی بنیاد پر مسترد کیے جانے پر بھی کافی تبصرے دیکھنے میں آئے۔

ان واقعات کے باعث ارجنٹائن کے میچز میں ریفری کے فیصلے مسلسل توجہ کا مرکز رہے ہیں، اور اب سیمی فائنل جیسے بڑے مقابلے میں اسماعیل الفتح کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ فٹبال ماہرین کا خیال ہے کہ اس میچ میں ان کے ہر فیصلے کو باریک بینی سے دیکھا جائے گا۔

دوسری جانب انگلینڈ اورارجنٹائن دونوں کے درمیان تاریخی رقابت بھی اس مقابلے کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے۔ شائقین فٹبال کو ایک سنسنی خیز میچ کی توقع ہے، جہاں کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ریفری کی کارکردگی بھی زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی کے اس اہم معرکے میں اب سب کی نظریں نہ صرف لیونل میسی اور انگلینڈ کے ستاروں پر ہوں گی بلکہ اسماعیل الفتح پر بھی ہوں گی، جنہیں اس بڑے مقابلے میں غیر جانبدار اور درست فیصلوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔