کیا اسٹنٹ ڈلنے کے بعد بھی ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے؟
دل کی شریان میں اسٹنٹ لگوانا بہت سے مریضوں کے لیے زندگی بدل دینے کا مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ طریقہ کار، جسے اینجیو پلاسٹی کے ساتھ اسٹنٹ لگانا کہا جاتا ہے، بند شریان کو کھول کر خون کی روانی بحال کرتا ہے، سینے کے درد میں آرام دیتا ہے اور کئی صورتوں میں دل کے دورے کے دوران مریض کی زندگی کا محافظ بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ اسٹنٹ لگنے کے بعد دل کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔
ماہرین امراض قلب کے مطابق اِسٹنٹ صرف اس شریان کو کھولتا ہے جہاں رکاوٹ پیدا ہو چکی ہو، لیکن یہ اس بنیادی بیماری کا علاج نہیں کرتا جس کی وجہ سے شریانوں میں چکنائی اور دیگر مادے جمع ہو کر رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ اگر مریض اپنی صحت کا خیال نہ رکھے اور خطرے کے عوامل پر قابو نہ پائے تو مستقبل میں نئی شریانیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق سی کے بِرلا اسپتال دہلی کے ڈائریکٹر برائے کارڈیالوجی ڈاکٹر انشول کمار جین کے مطابق اسٹنٹ کو مستقل علاج کے بجائے مجموعی علاج کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اسٹنٹ ایک چھوٹے دھاتی سہارے کی طرح کام کرتا ہے جو بند شریان کو کھول دیتا ہے تاکہ خون دوبارہ آسانی سے بہہ سکے، لیکن یہ شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کے عمل کو نہیں روک سکتا۔
اگر سگریٹ نوشی، بے قابو ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی، غیر صحت بخش غذا یا دواؤں میں لاپرواہی جاری رہے تو وقت کے ساتھ نئی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ماہرینِ امراض قلب کا کہنا ہے کہ دل کی شریانوں کو گھریلو پانی کی پائپ لائن کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک بند حصہ کھول بھی دیا جائے لیکن نقصان دہ مادے مسلسل نظام میں شامل ہوتے رہیں تو دوسری جگہوں پر بھی رکاوٹ پیدا ہونے کا امکان برقرار رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید اسٹنٹ کافی مؤثر ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض وجوہات کی بنا پر دوبارہ دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔ ایک وجہ ”ری اسٹینوسس“ ہے، جس میں اسٹنٹ کے اندر زخم کا ٹشو بننے لگتا ہے اور شریان دوبارہ تنگ ہو جاتی ہے۔ اگرچہ جدید دوا خارج کرنے والے اسٹنٹس نے اس خطرے کو کافی حد تک کم کر دیا ہے، لیکن یہ مسئلہ بعض مریضوں میں اب بھی سامنے آ سکتا ہے۔
ایک اور سنگین پیچیدگی ”اسٹنٹ تھرومبوسس“ ہے، جس میں اسٹنٹ کے اندر خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے۔ یہ نسبتاً کم ہوتا ہے، لیکن جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر خون پتلا کرنے والی تجویز کردہ دوائیں بند کر دے تو اس خطرے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ دل کی شریانوں کی بیماری وقت کے ساتھ بڑھنے والی بیماری ہے۔ اگرچہ اسٹنٹ لگی ہوئی شریان کھلی رہ سکتی ہے، لیکن دل کی دوسری شریانوں میں نئی چکنائی جمع ہو سکتی ہے، جس سے نئی رکاوٹیں پیدا ہونے اور دوبارہ دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض اگر اپنے علاج کے منصوبے پر باقاعدگی سے عمل کریں تو دوبارہ دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ تمام دوائیں، خاص طور پر خون پتلا کرنے اور کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات، باقاعدگی سے استعمال کی جائیں۔
اس کے ساتھ سگریٹ نوشی ترک کرنا، متوازن اور صحت بخش غذا اختیار کرنا، ڈاکٹر کی اجازت کے بعد باقاعدہ ورزش کرنا، مناسب وزن برقرار رکھنا اور ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا بھی اہم ہے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ مریض باقاعدگی سے اپنے معالج سے معائنہ کراتے رہیں تاکہ کسی بھی نئی پیچیدگی کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔
ڈاکٹروں کے مطابق اگر اسٹنٹ لگنے کے بعد بھی سینے میں درد یا دباؤ، سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی پسینہ آنا، چکر آنا، بے ہوشی، درد کا بازو، جبڑے یا کمر تک پھیل جانا یا مسلسل غیر معمولی تھکن محسوس ہو تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔ بروقت علاج سنگین پیچیدگیوں سے بچانے اور جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسٹنٹ دل کی بند شریان کھول کر جان بچانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے، لیکن دل کی بیماری سے مکمل تحفظ کے لیے صرف یہ طریقہ کافی نہیں۔ ادویات کا باقاعدہ استعمال، صحت مند طرز زندگی اپنانا اور نئی علامات کو نظر انداز نہ کرنا ہی دل کو طویل عرصے تک صحت مند رکھنے کا مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔















