مصر میں امریکی گیس اسٹورج پلانٹ پر ڈرون حملہ، 2 ٹینکروں میں آگ لگ گئی

حکام نے آگ لگنے کی وجہ سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
شائع 29 جولائ 2026 10:31pm

مصر کے بحیرہ روم میں واقع دمیاط بندرگاہ پر بدھ کے روز دھماکوں اور آگ لگنے کے واقعے نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ملکیت کے گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینکر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم مصری حکومت نے واقعے کی وجہ بیان نہیں کی۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بحیرہ روم میں واقع مصر کی دمیاط بندرگاہ پر ایک جہاز میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جو بعد میں قریبی دوسرے جہاز تک پھیل گئی۔ واقعے سے متعلق تین تجارتی ذرائع نے بتایا کہ ڈرون نے بندرگاہ پر موجود ایک جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔

برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبری نے دعویٰ کیا کہ امریکی ملکیت کے گیس ذخیرہ کرنے والے فلوٹنگ ٹینکر پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے بعد عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا اور آگ پر قابو پا لیا گیا۔ تاہم اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔

دوسری جانب مصر کی وزارتِ پیٹرولیم و معدنی وسائل نے تصدیق کی کہ دمیاط بندرگاہ پر ایک ٹگ بوٹ اور ذخیرہ کرنے والے جہاز میں آگ لگی تھی، لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

وزارت کے مطابق ہنگامی منصوبے کے تحت فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتِ حال پر قابو پا لیا، تاہم آگ لگنے کی وجہ سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بدھ کی صبح امریکا اور سعودی عرب نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں پر مشترکہ حملے کیے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی افواج پر حملے کی کوشش کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا۔

اسی دوران ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ انتظام سے متعلق عمان کی تجویز بھی مسترد کر دی۔

عراق کی ایران نواز پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کے مشترکہ حملوں میں اس کے کم از کم 20 ارکان جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے۔ واشنگٹن اور ریاض کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عراق سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔

عراقی صدر اور وزیراعظم نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جب کہ حکومت نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ عراق کو علاقائی تنازع کا میدان بنانے سے گریز کیا جائے۔

ادھر خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت آٹھ فیصد سے زیادہ بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتِ حال برقرار رہی تو عالمی توانائی کی منڈی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔