سعودی عرب اور امریکا کی عراق میں کارروائی کے بعد خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

برینٹ خام تیل کی قیمت 87.30 جب کہ امریکی خام تیل کی قیمت 82.30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
شائع 29 جولائ 2026 03:57pm

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس خبر کے بعد سامنے آیا کہ سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ مل کر عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ایک ملیشیا کے خلاف کارروائی کی جب کہ امریکا نے ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل بھی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 3.9 فیصد اضافے کے بعد 87.30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 3.8 فیصد بڑھ کر 82.30 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کی افواج نے منگل کی شب عراق میں ایران کی حمایت یافتہ گروپوں کے خلاف ہدفی کارروائیاں کیں۔ ان گروپوں پر سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

امریکا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی نے خلیج فارس میں صورت حال کے جلد معمول پر آنے کی توقعات کو دھچکا پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنائے جانے سے تیل کی سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ڈچ بینک اور بروکریج ادارے آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے اپنے نوٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکروں کی آمدورفت بدستور تقریباً معطل ہے۔ ان کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے انتظام پر بات چیت ہوئی تاہم ایران نے عمان کی جانب سے پیش کی گئی 50-50 شپنگ منصوبے کی تجویز مسترد کر دی۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا میں 24 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 33 لاکھ بیرل کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مزید سہارا ملا۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے سرکاری اعداد و شمار بعد میں جاری کیے جائیں گے۔