ایران صرف باتیں کرتا ہے عمل نہیں، وہ اب مشرق وسطیٰ کا بدمعاش نہیں رہا: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے خاتمے اور فرار کے ساتھ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران صرف باتیں کرتا ہے عمل نہیں، وہ اب مشرق وسطیٰ کا بدمعاش نہیں رہا۔
بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے اور ہم آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھیں گے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی بحری ناکہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے ہر کوئی ’’فولادی دیوار‘‘ یعنی ’’وال آف اسٹیل‘‘ قرار دے رہا ہے اور ایران اس کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب نہ کوئی بحریہ ہے اور نہ ہی فضائیہ جب کہ ایران کے بقیہ فوجی اہلکار تنخواہوں سے محروم ہیں۔
انہوں نے ایرانی پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے بارے میں بھی دعویٰ کیا کہ وہ بری طرح تباہ ہوچکے ہیں اور اس کے اہلکار فرار ہورہے ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کی قیادت کی صورت حال کو بھی غیر یقینی قرار دیا اور کہا کہ ایران کے پاس پیسہ نہیں ہے جب کہ ملک کی صورت حال خراب ہوچکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران میں مہنگائی 300 فیصد ہے اور صورت حال مزید خراب ہورہی ہے۔ انہوں نے ایران پر ’’جعلی خبریں‘‘ پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ایران کے پاس صرف جعلی خبریں ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران صرف باتیں کرتا ہے اور عملی طور پر کچھ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے ایران کو مشرق وسطیٰ کا ’’بدمعاش‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اب بدمعاش نہیں رہا۔
اپنے بیان کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’Praise be to Allah‘‘ یعنی ’’سب تعریف اللہ کے لیے‘‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق منگل کو صرف 8 بحری جہاز آبنائے سے گزرے جب کہ جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 130 سے 140 جہاز یہاں سے گزرتے تھے۔
آبنائے ہرمز خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اہمیت اختیار کرچکی ہے، یہ دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے جب کہ یہاں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی منڈیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔














