انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں گےتو ضرورکمیشن بنائیں گے، چیف جسٹس

شائع 06 دسمبر 2016 08:50am
فائل فوٹو فائل فوٹو

وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما پیپرز کیس پر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان انورظہیر جمالی نے کہا ہے کہ پاناما معاملےپر نیب ،ایف بی آراور ایف آئی اے نے کچھ نہیں کیااگر اداروں نے کوئی کام نہیں کرنا تو ان کو بند کردیں۔

سپریم کورٹ میں پاناما پیپرزکیس کی سماعت کے دوران  وکیل جماعت اسلامی نے ایک بارپھرکمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی،جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ اس نتیجے پرپہنچےکہ انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں گے توضرورکمیشن بنائیں گے،تمام آپشن کھلے رکھے ہیں۔

چیف جسٹس نےکہا کہ کہیں کوئی کارروائی نہیں ہوئی توعدالت عظمی نے معاملہ ٹیک اپ کیا،انسداد بدعنوانی کے اداروں نے کام نہیں کرنا توکیا ان کی ضرورت ہے؟

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل میں کہاکہ 2014اور2015میں حسین نواز نے اپنے والد کو کو74کروڑکے تحفے دیئےجس پر ٹیکس ادا نہیں کیا،مریم کے اپنے والد زیرکفالت ہونے کےواضح ثبوت ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے والد کے زیرکفالت ہونے کے ثبوت سے متعلق استفسارکیا والد نے مریم صفدرکو3 کروڑ17لاکھ اورحسن نوازکو2کروڑکے تحفے  دیئے ۔

جسٹس کھوسہ نے نعیم بخاری سے کہاکہ دلائل سے ظاہرہوتا ہے مریم نواززیرکفالت ہیں لیکن کس کی زیر کفالت ہیں؟

 نعیم بخاری نے کہاکہ مریم نوازچوہدری شوگرمل کی شیئرہولڈرہیں،زرعی اراضی ہے ،12-2011 میں اثاثوں میں بھی اضافہ ہوا لیکن مریم نواز کہتی ہیں ان کی کوئی جائیداد نہیں 2011 میں مریم نواز ، والد کی زیرکفالت تھیں ، نوازشریف نے 5کروڑتحفے میں دیئے ۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ مریم نوازکے فائدہ مند ہونے کے دستاویزکا انہوں نے اعتراف نہیں کیا ۔

 نعیم بخاری نے حسن نواز کے متعلق دلائل دیے تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کرایہ پاکستان سے آتا ہے لیکن وہ بزنس سے آتا ہے یہ بات نوٹ کی ہے ۔

 جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ تمام بیانوں کوملا کرپڑھیں پیسہ دوبئی سے قطرپھر سعودی عرب اور پھر لندن گیا۔

 نعیم بخاری نے دلائل میں کہاکہ لندن فلیٹس کیسے خریدے گئے اس رازکا پردہ کیسے اٹھائیں ،حدیبیہ پیپرمل کے ڈائریکٹرشہبازشریف ، حسین نوازاورمریم صفدرتھے۔