سانحہ آرمی پبلک اسکول، شہید بچوں کی تعداد 148ہوگئی
File Photoپشاور: سانحہ آرمی پبلک اسکول کا ایک اور زخمی طالب علم دم توڑ گیا، حادثےمیں شہید بچوں کی تعداد ایک سو اڑتالیس ہوگئی، عملے سمیت تعداد ایک سوستر ہوگئی۔
دو برس ہونے کو آئے لیکن آرمی پبلک اسکول سانحے کے بعد اموات کا سلسلہ نہ رکا۔ دہشت گردوں نے سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کو جن پھولوں کو مسلا ان میں چترال کا ارشاد حسین بھی شامل تھا۔
ارشاد حسین کو گردن اور کمر میں گولیاں لگیں جسکے باعث وہ دو برس تک ایم ایچ راولپنڈی میں زیر علاج رہا۔ صحت یابی کے بعد ملٹری کالج مری میں زیرتعلیم رہا۔
ارشاد کے اپنے زخم تو بھر گئے لیکن معصوم دل سے ساتھیوں کی موت کا دکھ کبھی ختم نہ ہوسکا،ذہنی دباؤ کے باعث متعدد بار اسپتال میں زیر علاج رہا،سانحہ کی یادیں اسے اکثر رلایا کرتی تھیں۔
آج ارشاد حسین بھی اپنے شہید دوستوں سے جاملا۔جاں بحق طالب علم کی میت آبائی علاقے کھد روانہ کردی گئی۔
ارشاد کی موت کے ساتھ ہی سانحہ آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے بچوں کی تعداد ایک سو اڑتالیس ہو گئی، جبکہ عملے سمیت ایک سو ستر افراد شہید ہوئے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔