مہلک بیماریوں کے علاج میں'کافی'مددگار
فائل فوٹوایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا لوگ جو روزانہ تین یا اس سے زائد کپ کافی کے پیتے ہیں ان کے بچنے کے مواقع ان لوگوں کی نسبت جو کم کافی پیتے ہیں سے دُگنے ہوتے ہیں۔
تقریباً ایک چوتھائی ایچ آئی وی مریض ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہوتے ہیں ، جو جگر پر حملہ آور ہوتا ہے۔
کافی جگر کے بچاؤ میں مددگار کے طور پر جانی جاتی ہے اور انسداد سوزش کا کردار ادا کرتی ہے۔
فرنچ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اور نیشنل ایجنسی برائے ایڈز اینڈ ہیپاٹائٹس ریسرچ کی اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ مریض جنہیں اپنے ایچ سی وی کا علاج کرنا تھا، وہ دن میں کم از کم تین کپ کافی کے پیتے تھے۔
حالیہ ہونے والی تحقیق نے کافی کو عمومی طور پر بہتر زندگی سے جوڑا تھا۔ تحقیق کے مطابق کافی کا استعمال صحت مند غذا کا حصہ ہونا چاہیئے۔
ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کو دیگر انفیکشنز ہونے کے خطرات ہوتے ہیں جیسے کہ ایچ سی وی جو جگر پر سوزش چڑھا دیتا ہے، جس کے سبب جگر کی بیماریوں اور جگر کے کینسر کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا افراد جو روزانہ تین کپ کافی پیا کرتے تھے ان کے بچ جانے کی شرح ، کم کافی پینے والوں سے 50فیصد بہتر تھی۔
Daily mail بشکریہ
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔