ملالہ کی پتلون اور حامیوں کا جنون

اپ ڈیٹ 19 اکتوبر 2017 07:30am

Untitled-1

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ملالہ یوسف زئی کی کچھ تصاویر جاری ہوئیں جس میں انہیں جینز اور ہیلز پہنے دیکھا جاسکتا ہے۔ اگرچہ ان تصاویر کی تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی ہے، تاہم انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بیس سالہ ملاہ نے حال ہی میں آکسفورڈ میں تعلیم کی غرض سے قدم رکھا ہے، لیکن انہیں پاکستانی عوام کی جانب سے مغربی لباس زیب تن کرنے اور والد کے بنا گھومنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب مہر تارڑ نے ایک تصویر جاری کی جس میں لکھا تھا ' آخرکار، ملالہ کی ایک تصویر، جہاں وہ ایک نارمل نوجوان لڑکی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ بات قبل ذکر ہے کہ ان کا سر ہمیشہ ڈھکا رہتا ہے۔'

مہر تارڑ کی جانب سے جاری کی گئی یہ تصویر آگ کی طرح وائرل ہوئی اور لوگوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔   لیکن جہاں ملالہ کو تنقید کا سامنا تھا تو دوسری جانب ان کے کچھ لبرل حامیوں نے ان کے دفاع میں بولنا شروع کردیا۔   سوشل میڈیا پر موجود ایمان مزاری نامی ایک صارف نے لکھا کہ ملالہ کو گولی لگنے سے زیادہ ان کے جینز پہننے پر بہت سے لوگوں کا دماغ گھوم رہا ہے، ہماری ترجیحات بتاتی ہیں کہ ہم اپنے دشمن کیوں ہیں۔  

 

جبکہ عمار مغیانہ نامی صارف نے کمینٹ کیا یہ پاکستان کا اصل مستقبل ہیں، ہمیں تم پر ناز ہے۔

یاد رہے کہ پانچ سال قبل ملالہ یوسف زئی کو طالبان کی جانب سے گولی ماری گئی تھی، سر میں گولی لگنے کے باعث انہیں علاج کی غرض سے لندن بھیجا گیا۔ بعد ازاں انہیں امن کیلئے نوبل انعام سے بھی نوازا گیا جس کے بعد وہ دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ جونوان بن گئیں۔