پرویز مشرف کے خلاف کیس چلنے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہاراطمینان

اپ ڈیٹ 18 دسمبر 2019 10:15am
فائل فوٹو

اسلام آباد:ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہیں ہے، کسی جنرل کے خلاف پاکستان میں کیس کا چلنا خوش آئند بات ہے، تاہم سزائے موت کے بغیر مقدمے کا شفاف ٹرائل بھی ضروری ہے۔

پرویز مشرف کے خلاف کیس چلنے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور پاکستان میں کسی فوجی جنرل کے خلاف مقدمہ چلنا خوش آئند عمل ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے نوبی ایشیا عمر وڑائچ نے بیان میں الزام عاید کیا کہ مشرف اوران کے زیر سرپرست چلنے والی حکومت کے دور اقتدارمیں انسانی حقوق کی بڑےپیمانے پر خلاف ورزیاں کی گئیں،حزب اختلاف کے سیاسی رہنماؤں اورانسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو بھی مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرصرف چند منتخب افراد کو نہیں بلکہ تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سزائے موت کی مخالفت کی اور کہاکسی کو سزائے موت دینے کا عمل، غیرانسانی، ظالمانہ، اور دی جانے والی سزا کی اہمیت کو کم کرتا ہے،اس عمل سے انصاف نہیں انتقام جھلکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا عمر وڑائچ کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے بغیر شفاف ٹرائل بھی پرویز مشرف کا حق ہے ۔