امریکی صدر کے مواخذے کی منظوری، ووٹنگ آج ہوگی

اپ ڈیٹ 19 دسمبر 2019 06:36am
فائل فوٹو

 واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے سے متعلق 2الزامات کی منظوری کے لیے ایوان نمائندگان میں ووٹنگ آج ہوگی۔ ڈیموکریٹس نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے اپنی دستاویز اور آرٹیکل پیش کرنے کا آغاز کردیا ہے۔

اگر رائے شماری میں ووٹ ٹرمپ کے خلاف آتے ہیں یا ان کے خلاف آرٹیکل منظور ہوجاتے ہیں تو صدر ٹرمپ مواخذے کی گرفت میں آنے والے تاریخ کے تیسرے امریکی صدر ہوں گے۔

 امریکی ایوان نمائندگان میں اس وقت تقاریر کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسپیکر نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اُن کے سامنے کوئی راستہ نہیں چھوڑا ، سوائے اِس کے کہ اُن کا مواخذہ کیا جائے ۔

اس سے قبل مواخذے کے ایک دور میں یوکرین میں امریکی سینیئر سفیر اور نائب وزیرِ خارجہ برائے یورپ سے بھی کئی سوالات کئے گئے تھے، جس کے بعد اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی عندیہ دیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے خلاف نکات اور ثبوت بہت واضح ہے جس پر ان کے مواخذے کی تحریک چلائی جاسکتی ہے۔

 امریکی صدر نے کارروائی کے آغاز پر ٹوئٹ کیا اور مواخذے کی کارروائی کو امریکا اور ریپبلکنز پر حملہ قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ اس بحث کا مرکزی نکتہ صدر ٹرمپ کی وہ کال ہے جس میں انہوں نے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے سیاسی حریف جو بائڈن اور ان کے بیٹے پر کرپشن کی تحقیقات کرے، حالانکہ جو بائڈن اور ان کے بیٹے ان الزامات بری الذمہ ہوچکے ہیں، دوسرے اقدام میں صدر ٹرمپ نے یوکرین کی 391 ملین ڈالر کی اس عسکری امداد کو روک دیا جس کی منظوری کانگریس دے چکی تھی تاہم اسے بعد میں جاری کردیا گیا۔

ان دونوں اقدامات کو سیاسی مخالفین نے ٹرمپ کے اختیارات سے تجاوز اور ناجائز حربوں میں شمار کرتے ہوئے ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی اپیل کی ہے۔