سندھ ہائی کورٹ کا کراچی سے ٹینکر مافیا کے فوری خاتمے کا حکم

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020 10:27am
فائل فوٹو

کراچی :سندھ ہائی کورٹ نے کراچی سے ٹینکر مافیا کے فوری خاتمے کا حکم دیتے ہوئے ایم ڈی واٹر بورڈ کو غیر قانونی کنیکشنز اور واٹر ٹینکرز سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت  کردی۔

 سندھ ہائی کورٹ میں بلدیہ ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں پانی کی قلت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان  عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے استفسار کیا  کہ آپ نے پمپنگ اسٹیشن قبضے میں لیا ؟ کیا ٹینکر مافیا کا خاتمہ ہوگیا ہے ؟جس پرایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا پمپنگ اسٹیشن قبضے میں لے لیا ہے۔

جسٹس کے کے آغا نے  کہا اچھی طرح سوچ لیں ٹینکر مافیا اگر فعال ہوا تو ذمہ داری آپ کی ہوگی،جس پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا شہر میں واٹر بورڈ کے تحت 155 پمپنگ اسٹیشنز  کام کررہے ہیں۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ کو اپنے کنکشنزکا نہیں معلوم آپ کو کس نے ایم ڈی بنایا ہے ؟ آپ کی کارکردگی بے نقاب ہوگئی ہے،  شہر میں کوئی غیر قانونی کنکشنز ہیں تو ذمہ دار آپ ہیں۔

جسٹس کے کے آغا نے  کہا مافیا  غیرقانونی کنکشنز سے لاکھوں کما رہا ہے، جس پر ایس ایس پی ملیر نے  عدالت کو بتایا میمن گوٹھ ، گڈاپ اور کئی علاقوں میں پانی کے کنکشنز نہیں ہیں،  لوگ ٹینکرز اور کنوؤں سے پانی حاصل کرتے ہیں۔

 عدالت نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو  غیر قانونی کنکشنز اور واٹر ٹینکرز سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت  کرتے ہوئے حکم دیا کہ شہر میں ٹینکر مافیا کا فوری خاتمے کیا جائے۔

درخواست  گزار کے وکیل نے کہا کہ پرائیویٹ افراد پمپنگ اسٹیشنز سے پانی کے عوض پیسے لے رہے ہیں ،جس پر عدالت نے کہا ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کون کتنا بااثر ہے،، کوئی بھی عوام کے  آئینی حق پر ڈاکہ ڈالے اسے گرفتار کریں، پانی کی فراہمی کے لیے کوئی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔

سندھ ہائی کورٹ نے اس معاملے پر ایس ایس پی ویسٹ کو نگرانی کی ہدایت  کرتے ہوئے کیس کی سماعت 25  فروری تک ملتوی کردی۔