اسلام  آباد ہائی کورٹ نے اسحاق ڈار کی اہلیہ کا گھر نیلام کرنے سے روک دیا

شائع 28 جنوری 2020 10:50am
فائل فوٹو

اسلام  آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اہلیہ کا گھر نیلام کرنے سے روک دیا ۔عدالت نے تبسم اسحاق کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے 7 نومبر 2019 کے احتساب عدالت کے فیصلے کو معطل کردیا ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس لبنی سلیم پرویز نے حکم امتناع جاری کیا۔

عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرکے 13 فروری تک جواب طلب کر لیا ۔

 درخواست گزار کی جانب سے قاضی مصباح ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ گلبرگ لاہور میں گھر 14 فروری 1989 کو اسحاق ڈار نے حق مہر کے عوض اپنی اہلیہ کو دیا ، نیب نے گھر منجمد کرتے ہوئے نیلامی کےلیے پنجاب حکومت کی تحویل میں دے دیا ۔

 احتساب عدالت نے تبسم اسحاق کی نیب کے اقدام کے خلاف درخواست 7نومبر 2019 کو خارج کردی۔

 عدالت نے درخواست گزار وکیل کے دلائل کے بعد احتساب عدالت کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا۔