ملکی خودمختاری کے لیے معاشی استحکام ضروری ہے،وزیرخارجہ
فائل فوٹوکراچی :وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ دنیا کے لیے معاشی مفادات زیادہ اہم ہیں،ملکی خودمختاری کے لیے معاشی استحکام ضروری ہے۔
کراچی میں فیڈریشن ہاؤس میں تقریب سےخطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملکی ترقی میں تاجروں اور صنعتکاروں کا اہم کردار ہےخارجہ پالیسی کےاستحکام کے لیے معاشی خوشحالی ضروری ہے،معاشی خوشحالی کے بغیر کےبغیرمضبوط خارجہ پالیسی نہیں بن سکتی،دنیاکے لیے معاشی مفادات زیادہ اہم ہیں،انسانی مسائل کودنیاسنتی ہے مگر ترجیح نہیں دیتی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی اقدامات سے مقبوضہ کشمیرکومعاشی نقصان بھی پہنچا،6ماہ میں مقبوضہ کشمیر میں 2ارب ڈالر کا نقصان ہوا،مقبوضہ کشمیرمیں 4 لاکھ افراد بے روز گار ہوئے،مودی سرکاری کی وجہ سے بھارتی معیشت کونقصان پہنچا،بھارت کے ماہرین بتارہے ہیں کہ ان کی معیشیت نصف فیصد تک گر چکی ہے ،حالیہ انتخابات میں بی جے پی کو شکست کا سامنا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو7خط لکھے ہیں ،مودی اپنی ناکامی کےسبب پلواماطرز کاحملہ کرسکتا ہے،کئی لوگ کشمیر میں بینک ڈیفالٹ کرچکے ہیں،بھارت کی کشمیر ظلم و بربریت کے اثرات آرہے ہیں۔
وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ بھارت اپنے اندرونی حالات چھپانے کے لیے دوبارہ پلوامہ جیسا ڈرامہ رچائے،جب تک معاشی پہیہ اورروزگار نہیں بڑھتاپاکستان مشکل سے نہیں نکل سکتا،میری یہ خواہش اور کوشش ہے کہ ہم ملکی معیشت کو خارجی سطح پر کس طرح بڑھا سکتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس معاملے پر زور دینے کی ضرورت ہےاکنامک ڈپلومیسی سے ہی ہم ملکی بہتری کرسکتے ہیں،اس ملک میں ایک عرصے سے ڈی انڈسٹریلائزیشن ہوئی ہے،سوال یہ ہے کہ کیا یہ ڈیڑھ سال میں ہوئی ہے؟آپ کاروباری طبقہ ہے آپ اپنی سرمایہ کاری دور اندیشی پر کرتے ہیں۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ زراعت کی پیداوار پر ملکرکام کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان پہلے کاٹن ایکسپورٹ کرتا تھا لیکن آج ہم درآمد کے بارے میں سوچ رہے ہیں،میں کسی پر تنقید نہیں کررہا لیکن ہمیں اب اس کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔
وزیرخارجہ کاکہنا تھا کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ کیسے آگے بڑھیں، ہم نے ڈیڑھ سال میں بہت کچھ سیکھا ہے اورموجودہ حکومت نے 10 ارب ڈالر کے قرض واپس کئے ہیں،پاکستان جو کپاس برآمد کرتا تھا آج درآمد کر رہا ہے، ہماری حکومت کو ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اور ہم نے اس ڈیڑھ سال میں بہت کچھ سیکھا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ڈیڑھ سال قبل ہر ماہ 500 ملین ڈالر کم ہورہے تھے لیکن اب زرمبادلہ ذخائرمیں اضافہ ہورہا ہے اور اب یہ 13 ارب ڈالر ہو گئے ہیں،موجودہ حکومت نے 10 ارب ڈالر کے قرض واپس کئے ہیں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔