حکومت نے اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق)کے مطالبات تسلیم کرلیے

شائع 10 فروری 2020 10:50am
فائل فوٹو

لاہور:حکومت نے پنجاب میں اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق)کے مطالبات تسلیم کرلیے۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی اتحادی جماعت (ق) لیگ سے مذاکرات کے لیے چوہدری برادران کی رہائش گاہ پہنچی،جہاں مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے حکومتی کمیٹی کے ارکان کا استقبال کیا۔

جس کے بعد حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق)کے رہنماؤں سے ملاقات کی ۔

ملاقات میں پنجاب کی کمیٹی کے ارکان گورنر پنجاب چوہدری سرور،وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور وفاقی شفقت محمود کے علاوہ وفاقی وزرا پرویز خٹک اور اسد عمر خصوصی طور پر شریک ہوئے۔

مسلم لیگ (ق) کی جانب سے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی، چوہدری مونس الہٰی، کامل علی آغا اور طارق بشیر چیمہ شریک ہوئے۔

ملاقات میں حکومتی کمیٹی اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت اتحاد کےامور پر بات چیت ہوئی۔

ملاقات کے بعد مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک اور مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الہیٰ نے میڈیا سے گفتگو کی۔

پرویز الہیٰ نے کہا کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوگئے ہیں، عمران خان کی قیادت اور نیت پر کوئی شک نہیں،مہنگائی سمیت تمام امور پر کھل کر بات ہوئی۔

اس موقع پر وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ اتحادیوں کا ساتھ چھوڑنے کی باتیں آج دم توڑ گئیں، ق لیگ اور ایم کیو ایم سمیت تمام اتحادی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،ہم یہاں غلط فہمیاں دور کرنے آئے تھے، کوئی اتحادی ہمیں نہیں چھوڑرہا ۔

پرویز خٹک نے مزید کہا کہ مسائل تو گھروں میں بھی ہوتے ہیں، لوگوں نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر غلط فہمیاں بنادیں، آئندہ بھی رابطے میں رہیں گے اور مل جل کر معاملات حل کریں گے۔

مذاکرات کی اندرونی کہانی

مسلم لیگ ق اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی،ڈیڈ لاک ختم ہونے کے بعد حکومتی کمیٹی اتحادی جماعت کو رام کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم اور مسلم لیگ (ق)کے درمیان مذاکرات میں مسلم لیگ (ق)کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔

 مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے (ق) لیگ کے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جلد جاری کردئیے جائیں گے اور اس معاملے پر آئندہ 2روز میں فالو اپ میٹنگ اسلام آباد میں ہوگی۔

ذرائع کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے اپنی وزارتوں کے معاملات کے حوالے سے مسلم لیگ قاف کے وزراٗ کی با اختیار حیثیت کو تسلیم کر لیا ہے۔

 معاہدے کے مطابق کسی بھی قابل اعتراض آفیسر کی تقرری پر تحریک انصاف اعتراض کا حق رکھے گی اور اس اعتراض پر مسلم لیگ (ق) متعلقہ وزارت میں تعیناتی کے لیے نئے آفیسر کا نام دینے کی پابند ہو گی۔

مسلم لیگ (ق) اپنے متعلقہ اضلاع میں عوامی مسائل کے حل کے لیے با اختیار ہو گی،تعیناتیوں، مختلف کمیٹیوں اور حکومتی اداروں میں نمائندگی میں ق لیگ کی تجاویز پر عمل کیا جائے گا۔