وفاقی کابینہ نے 15 ارب کے ریلیف پیکج کی منظوری دیدی
فائل فوٹووفاقی کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی میں کمی سے متعلق بڑے فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔وفاقی کابینہ نے 15 ارب ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دالوں پرامپورٹ ڈیوٹی ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا ہے جس میں وفاقی کابینہ نے 15 ارب ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ۔
وزیراعظم نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چینی کی درآمد کے فیصلے کو منسوخ کردیا۔کابینہ نے چینی کی برآمد پرپابندی کے فیصلے کی بھی توثیق کر دی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دالوں پرامپورٹ ڈیوٹی ختم اور قیمتیں بھی کم کر دی جائیگی۔ اجلاس میں 50 ہزار نوجوانوں کو یوتھ اسٹورزکے لئے قرض دینے کی منظوری دی گئی ہے۔وزیراعظم نے گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر مہنگائی کا پہلے ہی بوجھ ہے مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔چینی کے معاملے پر عوام کو پریشان نہیں ہونے دوں گا۔
حکومت کی جانب سے 15 ارب کے ریلیف پیکج کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ یوٹیلیٹی اسٹورزکوفوری طورپر10ارب روپے جاری کیے جائیں گے۔یوٹیلیٹی اسٹورز پر دالیں کی قیمت 15 سے 20 روپے فی کلو رعایت دی جائے گی۔یوٹیلیٹی اسٹورز پر 20 آٹے کا تھیلا 805 روپے میں دستیاب ہوگا۔ چینی کا سرکاری نرخ 70 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کھانے کا تیل 175 روپے فی کلودستیاب ہوگا ۔
کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے 50 ہزار منی یوٹیلیٹی اسٹورزکےلئے قرضے دیے جائیں گے ۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے نجی شعبے کو چینی درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔نجی کمپنیاں ریگولیٹری ڈیوٹی ادا کرکے چینی درآمد کرسکتی ہیں۔
کھاد کی کمپنیوں کی جانب سے قیمتیں کم نہ کرنے پروزیراعظم برہم ہوگئے۔مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد سے سخت سوالات کیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جی آئی ڈی سی ختم کرنے کے باوجود کھاد کی قیمتیں کم کیوں نہ ہوئیں؟ وزارت تجارت کھاد کمپنیوں کومقررہ ریٹ پابند بنائے۔کسانوں کا استحصال نہیں ہونے دوں گا۔مہنگائی کے معاملے پر روزانہ کی بنیاد پرخود دیکھوں گا ۔ مافیا کی سہولت کاری کرنے والے بھی جرم میں برابر شریک تصور ہونگے۔وزراء خود کو عام آدمی کے ریلیف پرمامورکردیں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔