اپنی جان کے خطرے سے آگاہ کرنے والا صحافی مبینہ طور پر قتل

اپ ڈیٹ 17 فروری 2020 04:26am
فائل فوٹو

اپنی جان کے خطرے سے آگاہ کرنے والا صحافی مبینہ طور پر قتل ہو گیا۔ عزیزمیمن کی لاش محراب پور کی گودو مائینر سے برآمد ہوئی۔

صحافی نے موت سے قبل ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ میں کرائے کے افراد لانے کی خبر پر اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق عزیزمیمن کی لاش محراب پورکی گودومائینرسےبرآمدہوئی ہے۔

عزیز میمن نے کچھ روز قبل اپنے تحفظ کی اپیل کی تھی ۔عزیزمیمن نے موت سے قبل ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔

عزیز میمن نے بلاول کے ٹرین مارچ میں کرائے کے لوگ لانے کی خبر دی تھی۔

ان کا کہنا تھا اس خبر کے بعد پولیس اور جیالے جان کے دشمن بن گئے۔مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔

صحافی کی میت پوسٹ مارٹم کےبعدورثاکےحوالےکردی گئی۔

اسپتال ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ2یا3دن میں ملے گی۔ابتدائی طور پر پانی میں ڈوب کر مرنے کے شواہد ملے۔

پولیس ذرائع کے مطابق حراست میں لئےگئےکیمرہ مین کےبیانات میں تضادہے۔کیمرہ مین نےجس جگہ صحافی کوچھوڑنےکابتایاوہاں کوئی شواہدنہیں ملے۔صحافی اپنے دونوں موبائل گھر چھوڑآیاتھا۔