اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020 06:49am
فائل فوٹو

اسلام آباد:اٹارنی جنرل آف پاکستان انورمنصور خان نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا،انہوں نے استعفیٰ صدرمملکت کو بھجوادیا۔

اٹارنی جنرل انورمنصورخان اپنے عہدےسے مستعفی ہوگئے، انہوں نے استعفیٰ صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوادیا، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ استعفیٰ فوری طور پر قبول کیا جائے۔

صدرمملکت کو بھجوائے گئے استعفے میں انورمنصورخان نے لکھا کہ پاکستان بارکے مطالبے پرمستعفی ہو رہا ہوں کیونکہ پاکستان بارکونسل نے تعیناتی پرسوال اٹھائے تھے۔

استعفے میں مزید کہا گیاکہ کراچی بار،سندھ باراورسپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے تاحیات ممبر ہیں،آئین کی حکمرانی کے لیے دیانت داری سے کام کیا۔

حکومت کا ججزسے متعلق اٹارنی جنرل کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار

دوسری جانب وزارت قانون کی جانب سے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا گیا ،حکومت نے ججزسے متعلق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔

سیکرٹری قانون نے کہاکہ 18 فروری کو اٹارنی جنرل نے عدالت میں ذاتی حیثیت سے بیان دیا ، بیان غیر ضروری اور بغیرہدایات کے زبانی دیا، جس پر اٹارنی جنرل سے استعفیٰ طلب کیا گیاتھا۔

 جواب میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت عدلیہ کا بہت احترم کرتی ہے اور قانون کی حاکمیت پریقین رکھتی ہے ۔

انور منصور نے بغیر اجازت سپریم کورٹ میں بیان دیا،فروغ نسیم

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے انور منصور سے استعفیٰ طلب کیا، انور منصور سے کہا گیا کہ خود استعفیٰ دے دیں تو بہتر ہے، انور منصور نے بغیر اجازت سپریم کورٹ میں بیان دیا۔

میڈیا سے گفتگو میں فروغ نسیم نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے ایک جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا ہے جس میں حکومت نے واضح کیا کہ انور منصور کا بیان حکومت کا مؤقف نہیں ہے۔