Aaj TV News

BR100 4,328 Decreased By ▼ -18 (-0.41%)
BR30 21,976 Decreased By ▼ -107 (-0.48%)
KSE100 41,701 Decreased By ▼ -105 (-0.25%)
KSE30 17,606 Decreased By ▼ -53 (-0.3%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 309,015 798
DEATHS 6,444 7

ایوب خان کے مارشل لا کے دوران فاطمہ جناح کی حمایت کرنے پر اہل کراچی کے ساتھ شروع ہونے والا زیادتیوں کا سلسلہ بھٹو دور میں بھی جاری رہا اور اردو تحریک کا موجد بنا، بھٹو دور میں کراچی مذہبی جماعتوں کے زیر اثر تھا اور یہاں پروفیسر غفور احمد، محمود اعظم فاروقی، سید منور حسین کے علاوہ علامہ شاہ احمد نورانی، شاہ فرید الحق اور صدیق راٹھور جیسے اردو بولنے والے شریف النفس سیاسی رہنماوں کی بات سنے اور مانی جاتی تھی لیکن ضیا دور میں تعصب اس قدر بڑھ گیا کہ ایم کیو ایم کی مقبولیت بھی بڑھتی گئی.

جنرل ضیاء الحق
جنرل ضیاء الحق

ایم کیو ایم کو پہلی کامیابی 1986 میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں حاصل ہوئی اور ڈاکٹر فاروق ستار نے کم عمر ترین میئر کے طور پر ذمہ داریاں سمجبھالیں، یہیں سے ایم کیو ایم کی کامیابیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ ایم کیو ایم کراچی کے سیاہ و سفید کی مالک بن گئی۔

فاروق ستار
فاروق ستار

ایم کیو ایم نے سن 2000 میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو جماعت اسلامی کو دوسری مرتبہ شہر کی میئر شپ ملی اور نعمت اللہ خان نے کراچی کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کیا، 2002 میں ایم کیو ایم کے صوبائی حکومت میں شامل ہونے سے پیدا ہونے والی تمام تر مشکلات کے باوجود 5 سال میں وہ مثالی ترقیاتی کام ہوئے جن کے باعث ایم کیو ایم کو بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینا پڑا۔

ایم کیو ایم
ایم کیو ایم

بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے باوجود ایم کیو ایم کو اپنے گڑھ ضلع وسطی کے نارتھ ناظم آباد کی ایک یونین کونسل میں جماعت اسلامی کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا، اور پھر اسی شکست کی بنا پر ایک موصوف لیاقت غوری نے مذکورہ یونین کونسل میں ایم کیو ایم کے ووٹرز بڑھانے کیلئے شہدا کے خاندانوں کی آبادکاری کا مشورہ دیا دراصل شہر میں چائنا کٹنگ کا آغاز تھا اور یہ سلسلہ بعد میں پورے شہر میں پھیلایا گیا۔

ایم کیو ایم اردو بولنے والے متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت کی دعوے دار تھی اور اسی بنا پر ایم کیو ایم میں شامل کراچی کے درجنوں نوجوانوں کو سیاسی رہنما، وزیر اور مشیر بنے کے مواقع میسر آئے، لیکن اس کامیابی کا فائدہ عام اردو بولنے والے کو کیا ہوا؟ کیا اردو بولنے والے نوجوانوں پر تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے بند دروازے کھل پائے؟

2008 میں بنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت میں آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کو بڑے شراکت دار کے طور پر شامل کیا اور ڈاکٹر رحمان ملک اور یوسف رضا گیلانی کی مدد سے ایم کیو ایم کی ہر طرح کی ناراضگی اور بلیگ میلنگ کے باوجود 5 برس حکومت میں شریک رکھا، اس دوران پیٹرول کی قیمت میں صرف 2 روپے اضافے پرحکومت سے علیحدہ ہونے والی ایم کیو ایم کو محکمہ پولیس میں 200 ملازمتوں سمیت بہت کچھ دے کر منایا گیا، نئے بلدیاتی نظام میں کے ایم سی کے کماو پوت اداروں پر سندھ حکومت کے قبضہ کیلئے بنائے گئے قانون کی منظوری کیلئے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 60 اور 40 فیصد کے تناسب سے ملازمیتیں بھی دی گئی، اور ناجانے در پردہ کیا کچھ اور بھی دیا گیا ہوگا، لیکن اس کے باوجود ہوا کیا؟

وفاقی اداروں کی ملازمتوں کے دروازے تو پہلے ہی مہاجر نوجوانوں پر بند تھے، اب تو سندھ حکومت نے بھی کھل کر کراچی کے نوجوانوں پر پولیس، تعلیم، صحت سمیت کے ایم سی، کے ڈی اے، واٹر بورڈ سمیت کراچی کے اپنے محکموں کے دروازے بھی مہاجر نوجوانوں پر ٹیکنکلی بند کردیئے گئے ہیں، وفاقی حکومت کی نیب کو تحقیقات کیلئے موصول ہونے والی ایک درخوست کے مطابق 2009 سے 2014 تک شہری سندھ کی 36ہزار ملازمتین جعلی ڈومیسائل پر دیہی سندھ کے افراد کو دے دی گئی ہیں۔

ہمارے ایک دوست جو محکمہ پولیس میں سینئر پولیس افسر ہیں، نے گذشتہ برس بتایا کہ محکمہ پولیس میں بھرتی کے مروجہ اصول و ضوابط تبدیل کر دیئے گئے ہیں، ماضی مں بھرتی کیلئے تحریری امتحان سب سے پہلے اور دوڑ سب سے آخری میں ہوا کرتی تھی لیکن اب دوڑ سب سے پہلے اور تحریری امتحان سب سے آخر میں لی جارہی ہے۔

ویسے تو یہ عام سے بات لگتی ہے لیکن مذکورہ پولیس افسر کے مطابق یہ مہاجر نوجوانوں کو ٹیکنیکلی پولیس سے باہر رکھنے کا فارمولا ہے، کم تعلیم یافتہ اور انپڑ مہاجر نوجوان اکثریت میں پان، گٹکا اور ماوا جیسی لتوں کا شکار ہونے کے باعث زیادہ دوڑ نہیں سکتے لہذا سب سےپہلے دوڑ کا امتحان لے کر انہیں مقابلے سے ہی باہر کردینا مقصود ہے کیونکہ بے روزگاری کی وجہ سے ایم اے اور بی اے پاس نوجوان بھی سپاہی کی نوکری کیلئے درخواستگزار ہوتے ہیں جو میٹرک سطح کا امتحان باآسانی پاس کرلیتے ہیں اور پھرکراچی میں بیسنے والی دیگر قومیتوں کے نوجوانوں کیلئے مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔

تمام ترغلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود 2015 کے انتخابات میں اہل کراچی نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کو موقع دیا اور وسیم اختر میئر کراچی بنے، انکا پہلا برس تو جیل کی نظر ہوگیا تاہم بقیہ چار سال بھی انہوں نے بے اختیار ہونے کا رونا رونے کے سوا کچھ نہیں کیا اور حالیہ بارشوں کے بعد کراچی کا جو حال ہوا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کے نام پر اگر پوری مہاجروں کمیونٹی کے ساتھ روا رکھی جانے والی مسلسل زیادتیوں کا سلسلہ بند ہوگیا تو پھر ایم کیو ایم شاید کبھی اقتدار کے ایوانوں میں نظر نا آئے۔

کاشف فاروقی

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہوسکتی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔