گریٹر اسرائیل کا منصوبہ اور عالمِ اسلام میں مزاحمت کی لہر

آج گریٹر اسرائیل اور اسلامی بیداری کے درمیان جنگ کی لکیریں واضح، مغرب کی بنیادی دلچسپی اس خطے کے تیل میں ہے
شائع 20 اپريل 2026 09:30am

بیسویں صدی میں تین بڑے انقلابات آئے۔ 1917 کے بالشویک انقلاب نے سوویت یونین (یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکس) کی بنیاد رکھی جو 1991 میں اس کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ 1949 کا چینی انقلاب اب بھی اپنی راہ پر گامزن ہے اور عوامی جمہوریہ چین اب امریکہ کی جگہ دنیا کی غالب سپر پاور بننے کے لیے تیار ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب نے امام روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایران میں صدیوں پرانی بادشاہت کا خاتمہ کیا۔

سوویت سوشلسٹ سلطنت کے ٹوٹنے کے بعد مغرب نے چین کی سوشلزم کی جانب پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی۔ 1989 میں بیجنگ کے تیانمن اسکوائر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا لیکن کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی مدد سے ڈینگ شیاؤ پنگ نے اسے کچل دیا اور انقلاب اپنی راہ پر قائم رہا۔

آج تہران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج ) کے ذریعے ایرانی انقلاب کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت گریٹر اسرائیل کے قیام اور ایران کی قیادت میں اسلامی بیداری کو روکنے کے لیے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔ اسرائیل کی توسیع پسندی کو دنیا کی واحد سپر پاور کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کی قیادت میں ہندوتوا صیہونی ریاست کی مکمل زمینی مدد حاصل ہے۔

اسرائیل کے بعد ایران مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوریت ہے۔ امریکہ، جو دنیا کی قدیم ترین آئینی جمہوریت ہے، کئی مسلم ممالک میں اپنے فوجی اڈوں کے ذریعے غیر مقبول اور آمرانہ بادشاہتوں کو اقتدار میں رکھنے کا ذمہ دار ہے، جبکہ دوسری طرف صیہونیوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ شکاری کے ساتھ شکار اور خرگوش کے ساتھ بھاگنے (دوغلی پالیسی) کی بہترین مثال ہے۔

اس ابہام اور دوغلے پن کا خاتمہ ضروری ہے۔ 1980 میں اسلامی انقلاب کے فوراً بعد عراق نے صدام حسین کی قیادت میں عرب بادشاہتوں کی درپردہ حمایت سے ایران پر حملہ کیا۔ اس کا مقصد امام خمینی کی قیادت میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کو روکنا تھا، جس نے قبائلی اور خاندانی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی۔ صدام حسین کو استعمال کر کے کمزور کیا گیا اور بالآخر 2003 کے حملے میں اسے ختم کر دیا گیا۔ ایران نے 1989 میں امام خمینی کی وفات کے بعد بھی اپنا راستہ برقرار رکھا اور 28 فروری 2026 کو ان کے جانشین علی خامنہ ای کی شہادت بھی اسلامی بیداری کو روکنے میں ناکام رہے گی۔

عرب ایران میں اسلام لائے جو زمین کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ایرانیوں نے نظریے کو اپنایا لیکن عرب طور طریقوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے نہ صرف پیغام کو سمجھا بلکہ تصوف کے ذریعے اس کی روحانی گہرائیوں میں اتر گئے۔ تیرہویں صدی میں مولانا جلال الدین رومی اور بیسویں صدی میں ڈاکٹر محمد اقبال نے اس پیغام کی نئی تفہیم پیش کی۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے اقبال کے خیالات کو ایران منتقل کیا اور اس بیداری کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر اقبال لاہوری کو ایران میں ایک ولی کے طور پر مانا جاتا ہے۔

آج گریٹر اسرائیل اور اسلامی بیداری کے درمیان جنگ کی لکیریں واضح ہیں۔ مغرب کی بنیادی دلچسپی اس خطے کے تیل میں ہے، جس کے لیے عوام کو آمریتوں اور قبائلی حکمرانی کے ذریعے یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ مغربی طاقتوں اور محصور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان پرامن علیحدگی ہونی چاہیے۔ تیل کی فراہمی کے معاہدے کے بعد تمام امریکی اڈے بند کیے جانے چاہئیں۔ تب ہی اسرائیل اپنے مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہنے اور توسیع پسندانہ عزائم چھوڑنے پر مجبور ہوگا۔

چین کی پیش قدمی اور اسلامی بیداری اب ناقابلِ تسخیر ہے۔ خفیہ کارروائیوں اور قتل و غارت گری کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران نے صرف بادشاہت سے نجات حاصل نہیں کی بلکہ اس کے تمام نشانات بھی مٹا دیے ہیں۔ اب محمد رضا پہلوی کے بیٹے کے پاس اقتدار میں واپسی کا کوئی موقع نہیں۔ سی آئی اے 1953 میں محمد مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر شاہ کو واپس لائی تھی لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔

دنیا بدل چکی ہے۔ 21 ویں صدی کو چین کی صدی اور اسلامی بیداری کا دور قرار دیا گیا ہے، جبکہ مغرب زوال پذیر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو جنگی جنون کی منتر سے دنیا کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ امن کو دوستانہ طریقوں سے غالب آنے دیں۔ صیہونی ریاست کو امن سے رہنے کے لیے دو ریاستی فارمولا تسلیم کرنا ہوگا، ورنہ اسے تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے 1930 کی دہائی میں ہی سرمایہ داری کے خاتمے اور چینی سوشلزم کے عروج کی پیش گوئی کر دی تھی ” گیا دورِ سرمایہ داری گیا، تماشا دکھا کر مداری گیا ”رومی اور اقبال کا اسلام آنے والے وقتوں میں مسلم دنیا کو نئی زندگی عطا کرے گا۔

نوٹ: یہ تحریر 19 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔