Aaj TV News

BR100 4,856 Decreased By ▼ -10 (-0.2%)
BR30 24,724 Decreased By ▼ -97 (-0.39%)
KSE100 45,868 Decreased By ▼ -116 (-0.25%)
KSE30 19,061 Decreased By ▼ -87 (-0.46%)

جب شہر میں بوری بند لاشیں ملا کرتی تھیں، تب کہاں تھی غیرت؟؟

اس وقت بھی احتجاج کرتے نا دباو تو اس وقت بھی تھا اور ایسا دباو تھا کہ پولیس افسر آنکھیں ملا کر بات کرنا تو درکنار " کراچی کے بدمعاشوں " کے بارے میں کوئی ایکشن لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

ابھی حال ہی میں لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے اے ایس آئی اضغر مغیری نے اپنے ساتھ ہونے والی بد سلوکی پر عدالت سے رجوع کیا کیونکہ اسے سندھ کی حکمراں جماعت کی سرپرستی رکھنے والے اور براہ راست ان سے وابستگی رکھنے والوں نے تھانے میں پکڑ کر گھسیٹا، اسکی وردی پھاڑ دی تھپڑ اور گھونسوں کی بارش کردی کیونکہ اس اے ایس آئی کا قصور یہ تھا کہ اس نے اسنیپ چیکنگ کے دوران کچھ منشیات فروشوں کو گرفتار کیا اور تھانے لے آیا۔

بجائے اس کے کہ تھانے میں کوئی کارروائی ہوتی بلکہ پولیس کے ہی پیٹی بند بھائیوں نے نہ صرف مجرموں کو چھوڑ دیا بلکہ بھرے تھانے میں پولیس کے اہلکاروں اور افسران کے سامنے وڈیروں نے اے ایس آئی کی درگت بنادی۔

اسوقت کہاں تھی سندھ پولیس کی غیرت؟؟

شاید اے ایس آئی کو یہ معلوم نہ تھا کہ مافیا پر ہاتھ ڈالنے سے چھوٹے کیا بڑے افسران بھی کتراتے ہیں کیونکہ بھٹو ابھی زندہ ہے۔

مگر اس نے بہادری دکھاتے ہوئے نا صرف ہاتھ ڈالا بلکہ پکڑ کر تھانے بھی لے آئے، ان منشیات فروشوں کی سفارش کیلئے حلقے کے سیاسی لوگ تھانے پر کود پڑے بلکہ اے ایس آئی کی خوب دھلائی بھی کی پولیس افسر نے سوشل میڈیا کے زریعے اپنے ساتھ ہونے والے اس سلوک کی آواز لوگوں تک پہنچائی اور اعلی افسران متحرک ہوئے ایس ایس پی مسعود بنگش، ڈی آئی جی عرفان بلوچ سمیت نے ایکشن لیا لیکن مافیا کے آگے بے بس رہے اور زبردستی اے ایس آئی پر دباو ڈالا گیا کہ وہ ایک رٹا رٹایا بیان دے پولیس کے حق میں جب اصغر نے منع کیا تو اس کے بیٹے شاہزیب کی کنپٹی پر پستول رکھ کر دھمکایا گیا اور ایک رٹا رٹایا بیان دلوادیا گیا؟؟

یہ دباو کس کا تھا؟ کوئی پوچھے سندھ پولیس سے۔۔

لیکن جب اس سے انصاف نہیں ملا اور اسے اپنے ہی افسران کی طرف سے روایتی بیان دلوایا گیا تو اس نے عدالت سے رابطہ کرلیا۔

کہاں تھے غیرتمند پولیس افسران؟؟