Aaj TV News

BR100 4,231 Decreased By ▼ -22 (-0.51%)
BR30 21,389 Decreased By ▼ -14 (-0.07%)
KSE100 40,807 Decreased By ▼ -224 (-0.55%)
KSE30 17,160 Decreased By ▼ -135 (-0.78%)

وہی ہوا جس کا ڈر تھا، کورونا نے پھر تیور دیکھانا شروع کردیئے۔ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر نے پنجے گاڑ لئے ہیں۔ ایس او پیز کی مکمل خلاف ورزیاں اور عوامی بے احتیاطی کے نتیجے میں کیسسز میں مسلسل اضافہ اور اموات کی شرح بھی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کورونا کی دوسری لہر نے تباہی مچادی ہے اور کئی ممالک ایک بار پھر لاک ڈاؤن کا اعلان کرچکے ہیں تاہم پاکستان میں اس وقت صورتحال تشویشناک ضرور ہے مگر کنٹرول میں ہے۔ ایس او پیز پر عمل کرکے وبا پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم اور وزراء عوام کو ایس او پیز پر عمل درآمد اور ماسک لگانے کا کہتے ہیں مگر خود اس کی خلاف ورزی کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ اپوزیشن بڑے بڑے جلسے کررہی ہے حکومت بھی پیچھے نہیں ہے بڑے بڑے اجتماعات سے وزیراعظم خطاب کرتے ہیں مگر ایس او پیز پر عمل درآمد دیکھائی نہیں دیتا۔

یہ تو وہی بات ہوگئی کہ "اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت"

تحقیق بتاتی ہے کہ صرف ماسک کے استعمال سے پچاس فیصد وبا کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے مگر ہمارے ملک میں کوئی اس پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں۔ عوام کی اکثریت وبا کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں بازاروں ، تعلیمی اداروں ، اسپتالوں ، تفریحی مقامات ، پبلک ٹرانسپورٹ اور دفاتر وغیرہ میں سماجی فاصلے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔

دوسری طرف حکومت صرف باتیں کررہی ہے یا صرف ہدایات دے رہی ہے ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کیلئے کوئی اقدامات دیکھائی نہیں دے رہے۔ میڈیا یا عوام کو دیکھانے کیلئے چند ایک مارکیٹوں یا دفاتر کو سیل کرکے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہم ایس او پیز پر عمل درآمد کروارہے ہیں جبکہ حقائق اس کے بلکل برعکس ہیں۔ وزیراعظم عمران خان تو واضح کرچکے ہیں کہ ملک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا، صنعتیں اور کاروبار بند نہیں کریں گے، مگر یہاں پر سوال یہ ہے کہ اگر کیسسز اسی طرح بڑھتے رہے تو پھر حکومت کیا کرے گی ؟ کیونکہ ایس او پیز اب صرف ایک مذاق بن چکی ہے اور کوئی بھی اس پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں۔

وزیراعظم پہلے بھی لاک ڈاؤن کی مخالفت کرچکے ہیں مگر صوبوں نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا اور جب مثبت نتائج سامنے آئے تو وزیر اعظم لاک ڈاؤن کا کریڈٹ بھی لیتے رہے۔

بہر حال سارا ملبہ صرف حکومت پر ڈالنا زیادتی ہوگی، عوام کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ اس وبا سے ہم خود کو اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھ سکیں۔