Aaj TV News

BR100 4,836 Decreased By ▼ -20 (-0.41%)
BR30 24,445 Decreased By ▼ -62 (-0.25%)
KSE100 45,727 Decreased By ▼ -204 (-0.44%)
KSE30 19,020 Decreased By ▼ -90 (-0.47%)

ملک میں کورونا ایک بار پھر سر اُٹھا چکا ہے، حکومت بار بار عوام سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور ماسک لگانے کا کہہ رہی ہے مگر عوام کی مسلسل غیر سنجیدگی دیکھنے میں آرہی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، شاپنگ مالز، مارکیٹوں اور تعلیمی اداروں سمیت کہیں بھی ایس او پیز پر عمل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اب تو اپوزیشن رہنما اور حکومت بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اپوزیشن حکومت مخالف جلسے جلوس کررہی ہے تو حکومت بھی جلسوں کا جواب جلسوں سے دے رہی ہے۔ حکومتوں کا کام جلسے کرنا نہیں بلکہ اپنی کارکردگی سے مخالف کو خاموش کروانا ہوتا ہے مگر ایسا لگتا ہے موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ آٹا، دال، چینی، سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہے مگر حکومت کے غیر سنجیدگی دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ اہم موضوع نہیں ہے۔

ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھر فراہم کرنے کے وعدے کرنے والوں کا آج عوام پوچھ رہی ہے، کہاں ہیں وہ گھر اور نوکریاں؟ مگر حکومت کے پاس اس کا جواب ایک ہی ہے کہ نواز شریف چور ہے اور زرداری ڈاکو۔۔۔ دوسری طرف اپوزیشن ہے جو کورونا کی پہلی لہر کے دوران حکومت پر شدید دباؤ ڈال رہی تھی اور بندشوں کا مطالبہ کررہی تھی۔ پیپلز پارٹی کی منافقت یہاں پر صاف دکھائی دیتی ہے جو پہلے بندشوں کو اور اب جلسوں کو اہم قرار دے رہی ہے۔

ایک جانب سندھ حکومت کراچی میں لاک ڈاؤن اور ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والوں پر جرمانے کررہی ہے تو دوسری جانب خود پابندی کے باوجود جلسے کررہی ہے، جلسوں میں کسی قسم کا سماجی فاصلہ اور ایس او پیز نظر نہیں آتی۔

اپوزیشن اپنی سیاست بعد میں بھی کرسکتی ہے، حکومت مخالف جلسوں کو اگر کچھ روز کیلئے ملتوی کردیا جائے تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا، لوگ مرتے ہیں تو مریں۔۔۔ ان کو صرف اپنے مقاصد اور ذاتی مفاد کی فکر ہے۔

اپوزیشن کی دوغلی پالیسی صاف ظاہر ہے، عالمی وبا جس سے بڑے بڑے ملک متاثر ہورہے ہیں مگر ہمارے ملک میں آج بھی سیاستدان سیاست کررہے ہیں اور عوام تو پھر عوام ہے جو پہلے ہی کورونا کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ڈر اور خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں ہمارے ملک میں بھی امریکہ یا بھارت جیسی صورتحال نہ ہو جائے جہاں آج اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے۔ اس صورتحال کو دیکھنے کے بعد بھی اگر لوگ ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ہیں تو پھر کیا کہا جاسکتا ہے۔

یہ دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اللہ پاک ہمیں کسی بڑی مشکل سے محفوظ فرمائے اور اس ملک پر اپنا خصوصی فضل و کرم بنائے رکھے۔

تحریر :کاوش میمن

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہوسکتی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔