Aaj TV News

BR100 5,282 Increased By ▲ 24 (0.46%)
BR30 27,601 Increased By ▲ 46 (0.17%)
KSE100 48,305 Increased By ▲ 53 (0.11%)
KSE30 19,479 Decreased By ▼ -59 (-0.3%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 939,931 1,194
DEATHS 21,633 57
Sindh 327,021 Cases
Punjab 343,703 Cases
Balochistan 26,152 Cases
Islamabad 82,065 Cases
KP 135,569 Cases

جہاں کہیں بھی منگھوپیر کا نام آتا ہے تو ہر فرد کے ذہن میں مزار اور مگر مچھوں کے علاوہ منگھوپیر روڈ کا خیال ضرور آتا ہے، منگھوپیر روڈ کا شمار کراچی کے مشہور شاہراہوں میں ہوتا ہے، یہ سڑک کراچی کے مصروف سڑکوں میں سے ایک ہے جو پرانا گولیمار کے پل سے شروع ہوکر منگھوپیر کی بستی پر ختم ہوتی ہے۔ اس سڑک کی خاص اہمیت پاکستان کی سب سے بڑی ماربل کی صنعتیں ہیں، منگھوپیر روڈ ایک جانب شہر کے سب سے مشہور صنعتی علاقے سائٹ انڈسٹریل اسٹیٹ کو جارہا ہے اور دوسری جانب گارڈن، صدر یا شہر کے مرکزی علاقے کو جانے والا راستہ بن جاتا ہے۔ ماربل کی صنعتوں کی وجہ سے اس سڑک پر حسبِ معمول ہیوی لوڈ گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔ قدیم اور مشہور شاہراہ ہونے کے باوجود بدقسمتی سے اس سڑک کی معیاری تعمیر کی طرف خاطر خواہ توجہ کبھی نہیں دی گئی، اس سڑک کی تباہ حالی کی وجہ سے مقامی لوگوں کی زندگی بھی اجیرن ہوگئی ہے، سڑک کے بیچ بڑے بڑے گڑھے قدیم کھنڈارات کا منظر پیش کرتے ہیں، ان گھڑوں میں مہینوں مہینوں پانی کھڑا رہتا ہے جو کہ حادثات کا باعث بنتے ہیں۔

سڑک کی تباہ حالی کی وجہ سے منگھوپیر کے مقامی لوگوں اور اس سڑک پر سفر کرنے والوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سڑک کی تباہ حالی کا ایک نقصان اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے منگھوپیر روڈ پر چوری کی وارداتیں ہورہی ہیں، ڈاکو دن دیہاڑے شہریوں کو لوٹ کر با آسانی فرار ہوجاتے ہیں۔ اگر سڑک خستہ حال نہ ہوتی تو اسٹریٹ کرائم میں کافی حد تک کمی ہوتی لیکن افسوس کہ اعلیٰ حُکام پھر بھی اس سڑک کی تعمیر کی طرف توجہ نہیں دے رہے اور تو اور اس سڑک پر اس قدر دھول مٹی اُڑتی ہے کہ شہریوں کیلئے سفر کرنا کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔

اگر منگھوپیر کو میں "لاوارث منگھوپیر" کا لقب دوں تو شاید یہ غلط نہ ہوگا کیونکہ آج تک میں نے منگھوپیر کو علاقہ نا پُرسان ہی دیکھا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں آخر کب تک منگھوپیر کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہوتا رہے گا؟ کیا منگھوپیر کو حق دینا گناہ کبیرہ ہے؟ اگر نہیں تو پھر آج تک منگھوپیر روڈ کیوں خستہ حالی کا شکار ہے۔

اکتوبر 2018ء میں گورنر سندھ اور میئر کراچی وسیم اختر نے منگھوپیر روڈ کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا اور ساتھ ہی اس عزم کا بھی اظہار کیا تھا کہ منگھوپیر روڈ کی معیاری تعمیر کا عمل مختصر عرصہ میں مکمل ہوگا لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ باتیں صرف تقریروں تک محدود تھیں۔ منگھوپیر روڈ کی تعمیر قصّہ پارینہ بن گیا ہے اس کی ابتر صورتحال دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ منگھوپیر روڈ کی تعمیر کا منصوبہ کیوں زیرِالتواء ہے؟

منگھوپیر کے منتخب نمائندوں کا فرض اوّل ہونا چاہیئے کہ وہ اس روڈ کے مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور اس کے حل کیلئے ہر ممکن کوشش کریں تاکہ جلد از جلد اس منصوبے کی تکمیل ہوسکے۔

اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف ضلع غربی اور وسطی کے وسیع علاقوں میں پانی کی قلت دور ہوگی بلکہ منگھوپیر ماربل انڈسٹریل اسٹیٹ سے سائٹ کے صنعتی علاقے کو جانے والی اہم سڑک پر ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی جو کئی سال سے زبوں حالی کا شکار ہے۔

تحریر : سعید خان صافی

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہوسکتی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔