Aaj TV News

BR100 4,671 Increased By ▲ 6 (0.13%)
BR30 18,834 Increased By ▲ 160 (0.86%)
KSE100 45,369 Increased By ▲ 297 (0.66%)
KSE30 17,576 Increased By ▲ 146 (0.84%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,254 414
DEATHS 28,737 9
Sindh 475,820 Cases
Punjab 443,185 Cases
Balochistan 33,484 Cases
Islamabad 107,722 Cases
KP 180,075 Cases

لاہور جنرل ہسپتال میں نوجوان کی جنس تبدیلی کا آپریشن کیا گیا ہے۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق میٹرک کی طالبہ عمارہ کا جنرل ہسپتال کے ڈیپارٹمنٹ آف پلاسٹک سرجری میں چار گھنٹوں پر مشتمل جنس تبدیلی کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔ والدین نے بیٹی کے بیٹا بننے پر اس کا نام عمارہ سے تبدیل کرکے عمار رکھ دیا۔

پلاسٹک سرجری کی سربراہ ڈاکٹر رومانہ اخلاق کی نگرانی میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نصر اللہ اور ڈاکٹر محمد عمران نے چار گھنٹے کی پیچیدہ مگر کامیاب سرجری کے بعد صنفی تفویض کا یہ عمل مکمل کیا۔ مریض کو صحت یابی کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔

معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر الفرید ظفر کے مطابق پاکستان میں جنس تبدیلی فیشن کے طور پر ممکن نہیں، یہ اسی صورت ممکن ہے جب ابتدائی طور پر یا بچپن میں ہی لڑکے یا لڑکی میں جنس مخالف کی علامات، ہارمونز کی تبدیلی اور دیگر ایسے امور نظر آئیں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹرز آپریشن کا فیصلہ کرتے ہیں۔

عمار کی والدہ نے کہا کہ اس طرح کے آپریشن پر نجی شعبے میں لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن ایل جی ایچ کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں نے بہترین طبی سہولیات مفت فراہم کی ہیں۔

عمار کے اہل خانہ نے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکس کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے مریض کی بہتر دیکھ بھال کی اور اپنی بیٹی کی جنس میں تبدیلی پر خوشی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بچپن سے ہی وہ مختلف نشانیاں دکھا رہی تھی جیسے کہ جب وہ بلوغت کو پہنچی ، اس کا چہرہ مردوں کی طرح بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔ جس کے بعد ڈاکٹروں نے ہارمونل چیک اپ کیا۔

جنس تبدیل کرنے کے بعد عمار نے کہا کہ وہ اللہ تعالی کا شکر گزار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے خاندان میں ایک لڑکے کا اضافہ فطرت کا انعام ہے جس پر ہر کوئی خوش ہے'۔