سندھ پولیس کے 6 اہلکاروں کی لڑکی سے اجتماعی زیادتی

آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ کا نوٹس
شائع 19 جنوری 2026 10:33am

سندھ کے شہر ٹُھل میں لڑکی آسیہ کھوسو سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں ایس ایس پی جیکب آباد کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں چھ پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد تمام اہلکاروں کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ایس ایس پی کے مطابق متاثرہ لڑکی کی دادی کی درخواست پر آرڈی 44 تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا جبکہ انکوائری رپورٹ میں پولیس اہلکاروں کی اجتماعی زیادتی ثابت ہوئی۔

نامزد ملزمان میں اے ایس آئی محراب سندرانی، ہیڈ کانسٹیبل عبدالنبی سامت، اور چار سپاہی غلام یاسین جکھراڻي، خادم حسین جکھراڻي، میر حسن بمبل اور برکت جکھراڻي شامل ہیں۔

ایس ایس پی جیکب آباد کا کہنا ہے کہ تمام ملوث اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

دوسری جانب آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ محمد کلیم ملک نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

Gang Rape

Arrested

iG notice

Thul police