گل پلازہ سے متعلق 3 کیسز زیر التوا: خلاف ضابطہ تعمیرات کی دستاویزات کا انکشاف
کراچی میں ہفتے کی رات پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ کے بعد تحقیقات میں تیزی آگئی ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے سانحے کے 4 روز بعد گل پلازہ سے متعلق مکمل ریکارڈ کمشنر کراچی کو جمع کرا دیا ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کمشنر کراچی کو گل پلازہ سے متعلق 7 فائلیں پیش کردی ہیں، جن میں سے 3 فائلیں گل پلازہ کے زیر التوا کورٹ کیسز کی ہیں۔
ایس بی سی اے کے مطابق گل پلازہ کی عمارت کے حوالے سے 1992، 2015 اور 2021 میں عدالتوں میں کیسز دائر کیے گئے تھے، جن کا مکمل ریکارڈ فائلوں میں شامل ہے۔ جمع کرائی گئی دستاویزات میں خلاف ضابطہ تعمیرات سے متعلق کاغذات، ریوائز پرپوزڈ بلڈنگ پلان اور ریگولرائزیشن پلان کی فائلیں بھی شامل ہیں۔
اتھارٹی کی جانب سے عمارت کی منظوری سے متعلق رپورٹ فائل بھی کمشنر کراچی کو جمع کرا دی گئی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے سانحہ کے 4 روز بعد مکمل ریکارڈ پیش کیا۔
کراچی ڈویژن نے گل پلازہ کی اصل فائلیں ایڈیشنل کمشنر کے دفتر کے حوالے کیں، اصل فائلیں پلاٹ نمبر 32، پی آر ون پریڈی کوارٹرز، ضلع ساؤتھ میں جمع کرائی گئیں۔ فائلزمیں عدالت کے کیسز، خلاف ضابطہ تعمیرات، رپورٹ اور ریگولرائزیشن پلان شامل ہے۔
کیس فائل سی پی نمبر 4138/2015 میں 86 صفحات اور نوٹنگ شامل ہے جب کہ عدالتی کیس فائل سی پی نمبر 971/2021 میں 50 صفحات پر مشتمل ریکارڈ موجود ہے۔ اسی طرح کیس فائنل سی پی نمبر 1081/92 میں 16 صفحات اور نوٹنگ شامل کی گئی ہے۔
خلاف ضابطہ تعمیرات کی فائل میں 6 صفحات کی خط و کتابت شامل ہے، ریوائز پرپوزڈ بلڈنگ پلان فائل میں 57 صفحات اور 6 صفحات کی نوٹنگ موجود ہے۔ رپورٹ فائل 135 صفحات اور 7 صفحات کی نوٹنگ پر مشتمل ہے جب کہ ریگولرائزیشن فائل میں 41 صفحات اور 7 صفحات کی نوٹنگ شامل کی گئی ہے۔
















