واشنگٹن کو واضح نہیں کہ ایران میں مذاکرات کے لیے کس سے بات کی جائے: ٹرمپ

واشنگٹن کو نہیں معلوم ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں: صدر ٹرمپ
شائع 16 مارچ 2026 11:09pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی موجودہ قیادت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو یہ تک معلوم نہیں کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے امریکا کو یہ بھی واضح نہیں کہ ایران میں مذاکرات کے لیے کس سے بات کی جائے۔

پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی قیادت کے بارے میں مختلف خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

ان کے مطابق بعض افراد کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت بہت خراب ہے، جبکہ کچھ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ کچھ لوگ یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے اور ممکن ہے کہ ان کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی ہو۔

تاہم انہوں نے کہا کہ کسی کے پاس اس بارے میں واضح معلومات نہیں ہیں اور کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔

ان کے بقول چونکہ انہوں نے حالیہ دنوں میں عوامی طور پر کوئی بیان نہیں دیا اس لیے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کو اس وقت یہ بھی معلوم نہیں کہ ایران میں اصل قیادت کس کے ہاتھ میں ہے۔

ان کے مطابق جب تک یہ واضح نہ ہو کہ ایران میں فیصلہ سازی کون کر رہا ہے، اس وقت تک کسی بھی قسم کے مذاکرات یا سفارتی رابطوں میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

اس سے چند روز قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی اسی طرح کا دعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ممکنہ طور پر زخمی ہیں اور انہیں شدید جسمانی نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب ایران کی حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ کسی قسم کا مسئلہ نہیں ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے حال ہی میں ایران کی قیادت سنبھالی تھی۔ یہ ذمہ داری اس وقت ان کے پاس آئی جب جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے قیادت سنبھالنے کے بعد جمعرات کو اپنا پہلا باضابطہ بیان بھی جاری کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی افواج نے ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے دوران ایران کے دفاعی نظام، ریڈار سسٹم اور اہم فوجی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ان کے بیلسٹک میزائل لانچرز کا پچانوے فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک اہم مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس آپریشن میں ایران کے سو سے زائد بحری جہازوں اور تیس بحری بیڑوں کو غرق کر دیا گیا ہے جن میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں بھی شامل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ ایران میں سات ہزار سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے تیل کی تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب ایران کی میزائل داغنے کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

اس موقع پر امریکی صدر نے اپنے اتحادی ممالک کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جن ملکوں کی ماضی میں امریکا نے مدد کی، وہ آج اس مشکل وقت میں دستیاب نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک کا تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے انہیں خود آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے کیونکہ امریکا کا صرف ایک فیصد تیل اس راستے سے گزرتا ہے۔

عالمی معیشت اور توانائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اب تیل کی پیداوار میں دنیا کا نمبر ون ملک بن چکا ہے اور اسے وینزویلا سے بھی لاکھوں ملین بیرل تیل دستیاب ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے مختلف ممالک سے بات چیت جاری ہے تاہم امریکا اپنے دفاعی مقاصد میں تیزی سے کامیاب ہو رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے ایران کے حوالے سے اس جنگ کی پیش گوئی پہلے ہی کر دی تھی اور اب امریکا کے پاس تیل کی اتنی بڑی مقدار موجود ہے کہ اسے کسی بیرونی دباؤ کی ضرورت نہیں ہے۔