آبنائے ہرمز کھلنے پر صدر ٹرمپ کا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کا شکریہ

آج دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ پاکستان کے وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ: صدر ٹرمپ کا بیان
اپ ڈیٹ 17 اپريل 2026 07:59pm

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولے جانے کے اعلان کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکے بعد دیگرے کئی بیانات جاری کیے ہیں۔ ان بیانات میں صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خلیجی ممالک کی تعریف کی، نیٹو پر شدید تنقید اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ لبنان پر حملوں سے باز رہے۔ ایک بیان میں انہوں نے ایران کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی کی جانب سے عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر متحرک ہوگئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کرنے پر پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’دو لاجواب شخصیات‘ کہہ کر مخاطب کیا اور دونوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس سے قبل بیان میں انہوں نے لکھا کہ ’آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا ہے اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے آزاد ہے‘۔ کچھ دیر بعد انہوں نے ایک اور بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’امریکی بحریہ کی جانب سے ناکہ بندی بدستور نافذ رہے گی اور اس کا اطلاق صرف اور صرف ایران پر ہوگا‘۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکا کی ایران کے ساتھ ’ڈیل‘ سو فیصد مکمل ہونے تک ایران کے تجارتی جہازوں پر یہ پابندی برقرار رہے گی۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ حل ہونے کے بعد نیٹو نے ان سے رابطہ کر کے مدد کی پیشکش کی جسے انہوں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’نیٹو نے ان سے رابطہ کیا ہے اور مدد کی پیشکش کی ہے۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ اب وہ اپنے جہازوں میں تیل بھروانا چاہتے تو جاکر بھروا لیں لیکن جب ان کی ضرورت تھی تب وہ بے کار اور ایک کاغذی شیر ثابت ہوئے‘۔

ایک اور مختصر پیغام میں امریکی صدر نے خلیجی ممالک کی تعریف کی۔ انہوں نے لکھا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی زبردست بہادری اور مدد کا شکریہ‘۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ 40 روز تک جاری رہی۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرتے ہوئے دشمن ملکوں کے تجارتی جہازوں کو وارننگ جاری کی تھی۔

اس دوران پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی پر راضی کیا، جس کے بعد دونوں ملکوں نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس معاہدے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، جس کے بعد فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا۔

اگرچہ اس جنگ بندی کے خاتمے میں اب چند روز باقی ہیں لیکن پاکستان اس کی مدت میں توسیع کے لیے دوبارہ متحرک ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، جس کے بعد ایران نے جمعہ کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت اسی مربوط راستے پر ہوگی جس کا اعلان ’ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن‘ پہلے ہی کر چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایکپیغام میں یہ بھی کہا ایران اور امریکا درمیان جاری مذاکرات میں سو فیصد اتفاق ہونے تک ایران کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ چونکہ زیادہ تر نکات پر مذاکرات ہو چکے ہیں، اس لیے یہ عمل بھی جلد ہی مکمل ہو جائے گا۔