ایران امریکا امن منصوبے کے 3 صفحات، فیصلہ کن مذاکرات کی اندرونی کہانی

اسلام آباد میں ٹرمپ اور تہران کے درمیان 20 ارب ڈالر کا بڑا سودا طے پانے کے قریب ہے۔
شائع 18 اپريل 2026 11:14am

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے تین صفحات پر مشتمل ایک اہم منصوبے پر خفیہ مذاکرات جاری ہیں جس میں سب سے بڑا نکتہ ایران کے ایٹمی ذخیرے کے بدلے منجمد اثاثوں کی بحالی ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دو امریکی حکام اور مذاکرات سے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت امریکا ایران کے 20 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز اس شرط پر جاری کرنے کو تیار ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم کر دے۔

اگرچہ اس ہفتے مذاکرات میں مسلسل پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اب بھی دونوں فریقین کے درمیان بڑے خلیج موجود ہیں جنہیں پُر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو بیان دیا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کار ممکنہ طور پر اس ہفتے کے آخر میں بات چیت کے دوسرے دور کے لیے ملاقات کریں گے تاکہ اس معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

توقع ہے کہ یہ مذاکرات پیر کو اسلام آباد میں ہوں گے، کیونکہ پاکستان اس پورے عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کو اس کے زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات میں موجود 2000 کلوگرام افزودہ یورینیم، خاص طور پر 60 فیصد تک افزودہ 450 کلوگرام مواد تک رسائی سے روکا جائے، جبکہ ایران کو اس وقت اپنی معیشت سہارا دینے کے لیے رقم کی اشد ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شروع میں امریکا نے خوراک اور ادویات جیسی انسانی ضروریات کے لیے 6 ارب ڈالر جاری کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن ایران نے 27 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دونوں فریقین 20 ارب ڈالر پر بات کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار نے اسے امریکی تجویز قرار دیا جبکہ دوسرے نے اسے صرف بحث کا حصہ بتایا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایٹمی مواد کی منتقلی پر ایک درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکا چاہتا تھا کہ تمام مواد اسے منتقل کر دیا جائے جبکہ ایران صرف اسے اپنے ملک کے اندر ہی ڈاؤن بلینڈ یعنی اس کی شدت کم کرنے پر راضی تھا۔

رپورٹ کے مطابق، اب زیرِ بحث تجویز یہ ہے کہ کچھ مواد کسی تیسرے ملک منتقل کیا جائے گا اور باقی کو بین الاقوامی نگرانی میں ایران کے اندر ہی ضائع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایران سے 20 سال کے لیے ایٹمی افزودگی پر رضاکارانہ پابندی مانگی گئی ہے، لیکن ایران صرف پانچ سال پر راضی ہے۔