آبنائے ہرمز میں نیا فراڈ: ایرانی حکام بن کر جہازوں سے کرپٹو کرنسی مانگنے والا گروہ سرگرم
سمندری خطرات سے نمٹنے والی یونانی فرم ’میرسک‘ نے بحری کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ کچھ نامعلوم افراد خود کو ایرانی حکام ظاہر کر کے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں سے پیسے بٹورنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان نوسربازوں کی جانب سے جہاز رانی کی کمپنیوں کو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ آبنائے ہرمز سے اپنے جہازوں کا محفوظ راستہ چاہتے ہیں تو انہیں کرپٹو کرنسی کی صورت میں ٹرانزٹ فیس ادا کرنا ہوگی۔
یونانی فرم نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ تمام پیغامات سراسر دھوکہ دہی پر مبنی ہیں اور ان کا ایرانی حکام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
میرسک کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم فراڈ ہے جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کا فائدہ اٹھا کر بحری کمپنیوں کو لوٹنا ہے۔
فرم نے انکشاف کیا ہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کرنے والا کم از کم ایک ایسا جہاز جس پر فائرنگ کی گئی تھی، ممکنہ طور پر اسی دھوکہ دہی کا شکار ہوا تھا۔
اس جہاز کے عملے نے شاید ان نوسربازوں کو ادائیگی کر دی تھی اور یہ سمجھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی کہ انہیں محفوظ راستہ مل گیا ہے، لیکن حقیقت میں وہاں ایرانی ناکہ بندی برقرار تھی۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے باعث سیکڑوں جہاز اور تقریباً بیس ہزار ملاح خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ایران نے اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے بحری ٹریفک مکمل طور پر معطل ہے۔
ایسے میں نوسرباز گروہ ملاحوں اور کمپنیوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں جعلی پیغامات کے ذریعے جھانسا دے رہے ہیں۔
ماہرین نے جہاز رانی کی کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی پیغام پر یقین نہ کریں اور کسی نامعلوم والٹ میں کرپٹو کرنسی منتقل نہ کریں کیونکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اب بھی انتہائی کشیدہ ہے اور وہاں سے گزرنے کا کوئی بھی فیصلہ صرف سرکاری اور تصدیق شدہ ذرائع سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر ہی کیا جانا چاہیے۔















