ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت سے رابطہ، آج اسلام آباد آمد متوقع

امریکی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم اسلام آباد میں موجود، عباس عراقچی مختصر ٹیم کےساتھ آج رات پہنچیں گے: حکومتی ذرائع
اپ ڈیٹ 24 اپريل 2026 04:47pm

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کے روز پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ جس کے بعد اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت کے قوی امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع نے عباس عراقچی کی آج اسلام آباد آمد کا عندیہ دیا ہے۔ عباس عراقچی مختصر ٹیم کےساتھ آج رات اسلام آباد پہنچیں گے اور پاکستانی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

ذرائع کے مطابق امریکی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم بھی اسلام آباد میں ہی موجود ہے، جس کے بعد امریکا-ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔

ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق عباس عراقچی نے جمعے کے روز پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے رابطہ کیا۔ اس دوران حالیہ علاقائی پیش رفت اور ایران و امریکا کے درمیان جاری جنگ بندی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ اور اسحاق ڈار کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خطےکی صورتِ حال، امریکا-ایران جنگ بندی اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئے۔

نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کو اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس سلسلے میں پاکستان کے مستقل اور تعمیری سہولت کاری کے کردار کو سراہا۔ جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

ایران اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ی یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ بندی سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے تاہم سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں جس میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر پیش پیش ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا تھا، جو بے نتیجہ رہا تھا۔ اب پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہی فریقین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جس میں شرکت کے لیے ایران کی جانب سے امریکی بحری ناکہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متعدد بیانات میں ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلانات کرچکے ہیں۔ جمعرات کو ایک بیان میں انہوں نے امریکی فوج کو ایران کی آبنائے ہرمز میں موجود گن بوٹس کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا پر عدم اعتماد جاری مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ایران نے امریکا کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیوں، بندرگاہوں کی بندش اور غیر سنجیدہ رویہ مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور معاہدوں کا خیرمقدم کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا، تاہم دنیا امریکا کی مسلسل بیان بازی، دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان تضادات کو واضح طور پر دیکھ رہی ہے۔