ایران جنگ: بھارت میں جاری برکس اجلاس اہم کیوں ہے؟

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی نئی دہلی پہنچ چکے ہیں۔
شائع 14 مئ 2026 11:08am

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں آج برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اہم اجلاس ہو رہا ہے، جس کے اثرات ایران میں جاری جنگ پر پڑنے کے امکانات ہیں۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے سرکاری دورے پر موجود ہیں۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد ستمبر میں بھارت کی میزبانی میں ہونے والی اٹھارہویں برکس سربراہی کانفرنس کے لیے ایجنڈا تیار کرنا ہے۔

برکس ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں کا ایک ایسا گروہ ہے جو عالمی اداروں میں مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ”گلوبل ساؤتھ“ کی آواز بلند کرنے اور سیکیورٹی و معاشی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ابتدا میں اس میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل تھے، تاہم 2010 میں جنوبی افریقہ کی شمولیت سے یہ برکس بن گیا۔

2023 میں اس گروپ نے مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو شمولیت کی دعوت دی، جن میں سے سعودی عرب کے علاوہ باقی تمام ممالک باقاعدہ طور پر شامل ہو چکے ہیں، جبکہ انڈونیشیا نے جنوری 2025 میں اس گروپ میں شمولیت اختیار کی۔

اس اجلاس میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، جنوبی افریقہ کے رونالڈ لامولا اور برازیل کے ماورو ویرا شریک ہیں۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ ای صدر ٹرمپ کے دورہ بیجنگ کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے، ان کی جگہ بھارت میں چین کے سفیر زو فی ہونگ نمائندگی کر رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو بھی نئی دہلی پہنچ چکے ہیں۔

اگرچہ اس اجلاس کی سرکاری تھیم ”لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کی تعمیر“ ہے جس میں عوامی صحت کے مسائل پر توجہ دی جائے گی، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ایران جنگ کے اثرات تمام گفتگو پر حاوی رہیں گے۔

یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے فیلو پروفیسر رافیل لوس نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ ”ایران جنگ برکس سربراہی اجلاس اور ٹرمپ و شی جن پنگ کی ملاقات دونوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے“۔

اس جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا کر دیا ہے، جس سے بھارت اور چین جیسے ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا تیل کی درآمدات کے لیے اس راستے پر بہت زیادہ انحصار ہے۔

یونیورسٹی آف سسیکس کے پروفیسر مائیکل ڈنفورڈ کہتے ہیں کہ ”بھارت میں یہ اجلاس ایک مشکل وقت میں ہو رہا ہے، کیونکہ بھارت کے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اور ایران و متحدہ عرب امارات کے درمیان تنازع کی وجہ سے برکس کے اتحاد کو چیلنجز کا سامنا ہے“۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور دیگر حکام سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ جنگ بندی کے امکانات پر بات ہو سکے۔