مصنوعی ذہانت سے بنی فلموں پر بولی ووڈ کا طنز: 'انسانی جذبات دکھاؤ'

کانز فلم فیسٹیول کے آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار بھی اس ٹیکنالوجی سے نالاں ہیں۔
شائع 16 مئ 2026 10:47am

آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرے ہفتے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کردہ کوئی نہ کوئی فلم وائرل ہو رہی ہے۔ ان فلموں کی چمک دمک اور کوالٹی اتنی جاندار ہے کہ پہلی نظر میں یہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ اسے کسی انسان نے کیمرے سے فلمایا ہے یا کمپیوٹر سافٹ ویئر نے تیار کیا ہے۔ لیکن بولی وڈ کے تجربہ کار کہتے ہیں کہ صرف ٹیکنالوجی سے فلم کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا، کہانی اور انسانی جذبات کی مہارت بھی لازمی ہے۔

حال ہی میں وائرل ہونے والی فلم ’دی پیچ رائٹ‘ اس کی ایک بڑی مثال ہے جس کی پہلی جھلک ہی ناظرین کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ فلم میں ایک شیر کو مشینری کے ساتھ ایسے دکھایا گیا ہے جیسے وہ مارول فلموں کا کوئی کردار ہو اور یہ سب کچھ مکمل طور پر اے آئی کے ذریعے تخلیق کیا گیا ہے۔

فلم کی دنیا میں ہر مخلوق پر جدید آلات لگے ہوئے ہیں اور وہ سب ’پچ ورک‘ کے ساتھ حرکت کرتے ہیں۔ اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب سیڈینس اور وی او جیسے جدید ٹولز کی مدد سے کوئی بھی شخص اپنے کمرے میں بیٹھ کر فلم ڈائریکٹر بن سکتا ہے۔

جہاں ٹیکنالوجی کے ماہرین اسے ایک انقلاب قرار دے رہے ہیں، وہیں بولی ووڈ کے تجربہ کار فلم سازوں کا ماننا ہے کہ صرف ٹیکنالوجی سے اچھی فلم نہیں بن سکتی۔ بولی ووڈ کے معروف ہدایت کار امیت رائے کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹولز فلم سازی میں انسانوں کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ناظرین حقیقی انسانی جذبات دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ کسی غیر حقیقی واقعے کے ذریعے ہی کیوں نہ ظاہر ہوں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ لوگ اے آئی فلمیں کیوں دیکھیں گے؟ ان کے بقول تماشائیوں کو معلوم ہوتا ہے کہ پردے پر جو دکھایا جا رہا ہے وہ حقیقت نہیں ہے، لیکن وہ اسے اس لیے قبول کرتے ہیں کیونکہ ایک زندہ انسان اداکاری کے ذریعے اس جھوٹ کو پیش کر رہا ہوتا ہے۔

امیت رائے نے جیکی چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کمپیوٹرائزڈ کردار کرتب دکھائے تو ہم متاثر نہیں ہوتے، لیکن جب جیکی چین جیسا انسان وہی کام کرتا ہے تو لوگ اسے دیکھتے ہیں کیونکہ اس کے پیچھے انسانی محنت شامل ہوتی ہے۔

دوسری جانب کچھ فلم ساز اے آئی کے حق میں بھی نظر آتے ہیں۔ بقول ان کے یہ صرف ایک ٹول ہے اور درست استعمال میں یہ بھی فلمی جذبات پیدا کر سکتا ہے۔

اسٹوڈیو بلو کے سی ای او دیپکر مکھرجی کا کہنا ہے کہ اے آئی اب فلم سازی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے اور بڑے اسٹوڈیوز اسے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ فلم میں جذبات پیدا کرنا ہدایت کار کے ہاتھ میں ہوتا ہے، چاہے وہ روشنی، آواز یا اداکاری کے ذریعے ہو۔

ان کے بقول اگر ماچس کی تیلیوں سے بنائی گئی اسٹاپ موشن فلم جذبات پیدا کر سکتی ہے تو صحیح ہاتھوں میں اے آئی فلم بھی دل کو چھو لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی طرح جیو ہاٹ اسٹار پر دکھائے جانے والے پروگرام مہابھارت میں بھی اے آئی کا استعمال کیا گیا ہے۔

تاہم فلم انڈسٹری کا ایک بڑا طبقہ اس ٹیکنالوجی سے نالاں بھی ہے۔ حال ہی میں کانز فلم فیسٹیول کے دوران آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار گلیرمو ڈیل ٹورو نے اے آئی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فلم سازی صرف ایک سافٹ ویئر چلانے کا نام نہیں بلکہ یہ برسوں کی محنت اور فنکاری کا نچوڑ ہے۔ فلم سی جی آئی کے بانی ارپن گگلانی کہتے ہیں کہ صرف آٹو کیڈ سیکھ لینے سے کوئی آرکیٹیکٹ نہیں بن جاتا، اسی طرح ہر وہ شخص جو اے آئی ٹولز استعمال کرتا ہے وہ فلم ساز نہیں کہلا سکتا۔

ان کا ماننا ہے کہ کہانی سنانے کا فن اور انسانی تجربہ ہی فلم کی اصل بنیاد ہے، ٹیکنالوجی صرف ایک مددگار کا کردار ادا کر سکتی ہے۔