آم کھانے سے پہلے پانی میں بھگونا کتنا فائدہ مند؟ ماہرین نے حقیقت بتا دی
گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی ہر سو آموں کی بہار آ جاتی ہے۔ چونسا، لنگڑا، سندھڑی یا انور رٹول، پھلوں کا یہ بادشاہ دستر خوان کا خاص حصہ بن جاتا ہے۔ آموں کو کھانے سے پہلے آدھے گھنٹے یا اس سے زیادہ دیر تک پانی میں بھگو کر رکھنے کی روایت نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔ لیکن کیا واقعی اس کے کوئی طبی فوائد ہیں یا یہ محض ایک پرانی رسم ہے؟
آم نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہوتا ہے بلکہ یہ وٹامن اے، وٹامن سی، پوٹاشیم، فائبر اور اہم اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہے۔ یہ ہماری قوت مدافعت بڑھانے، آنکھوں کی بینائی بہتر کرنے اور خون کی کمی دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
شدید گرمی میں آموں کو ٹھنڈے پانی میں بھگونے کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کا بیرونی درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے، جس سے انہیں کھانے پر جسم کو فوری تازگی کا احساس ملتا ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آموں کو پانی میں بھگونے سے ان کی تاثیر ٹھنڈی ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے چہرے پر دانے (کیل مہاسے) نہیں نکلتے، نکسیر نہیں پھوٹتی اور ہاضمہ درست رہتا ہے۔ تاہم، طبی ماہرین اور غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دعووں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق، آم کو پانی میں بھگونے سے اس کے اندر موجود غذائیت، وٹامنز یا قدرتی مٹھاس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ جسم کی گرمی یا ہاضمے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ دن بھر میں کتنا پانی پیتے ہیں اور آپ کی مجموعی خوراک کیسی ہے۔
ماہرین کے نزدیک اس پرانی روایت کا سب سے بڑا اور سائنسی فائدہ صفائی اور حفظان صحت سے جڑا ہے۔ آم باغات سے ٹوٹنے کے بعد کئی مرحلوں، ٹرانسپورٹ اور ذخیرہ اندوزی سے گزر کر ہم تک پہنچتا ہے۔ اس طویل سفر میں اس پر دھول، مٹی اور خطرناک جراثیم جمع ہو جاتے ہیں۔ پانی میں بھگونے سے یہ تمام آلودگی صاف ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ آم کے چھلکے پر اکثر اس کا قدرتی رس یا چپکنے والا سفید مادہ (لیٹکس یا چیپ) لگا رہ جاتا ہے۔ بعض حساس افراد میں یہ مادہ گلے کی خراش، کھانسی یا الرجی کا باعث بن سکتا ہے۔
آموں کو پانی میں بھگونے سے یہ مادہ مکمل طور پر دھل جاتا ہے۔ مزید برآں، یہ عمل چھلکے کی سطح پر موجود کیڑے مار ادویات (پیسٹی سائیڈز) کے اثرات کو بھی بڑی حد تک کم کر دیتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین نے اس عام تصور کو مسترد کیا ہے کہ آم بھگونے سے اس کی ”گرمی“ ختم ہو جاتی ہے یا یہ مہاسوں، ناک سے خون آنے اور ہاضمے کے مسائل سے بچاتا ہے۔
ان کے مطابق ان دعوؤں کی تائید کرنے کے لیے کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ جسم پر آم کے اثرات کا تعلق زیادہ تر فرد کی مجموعی غذا، پانی کے استعمال اور جسمانی کیفیت سے ہوتا ہے۔
ماہرین مزید بتاتے ہیں کہ آم کو پانی میں بھگونے سے اس کی غذائی اہمیت متاثر نہیں ہوتی۔ وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سمیت اس کے اہم غذائی اجزا اپنی اصل حالت میں برقرار رہتے ہیں، چاہے آم کو بھگویا جائے یا براہِ راست دھو کر کھایا جائے۔
صحت کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ آم کھانے سے پہلے اسے صاف پانی سے اچھی طرح دھو لینا کافی ہے۔ البتہ جو افراد لیٹیکس سے حساس ہوں یا اضافی صفائی کو ترجیح دیتے ہوں، ان کے لیے آم کو کچھ دیر پانی میں بھگونا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک اچھی حفظانِ صحت کی عادت ہے، مگر اسے طبی ضرورت یا صحت کا لازمی اصول نہیں سمجھنا چاہیے۔
آموں کو کھانے سے پہلے بہتے ہوئے صاف پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے، انہیں اعتدال میں رہ کر کھانا چاہیے اور گرمیوں کے موسم میں پانی کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے تاکہ آپ اس مزیدار پھل سے بھرپور اور محفوظ لطف اٹھا سکیں۔
















