مومنہ اقبال ہراسانی کیس: رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درج کیا گیا ہے، جو اداکارہ کی مدعیت میں دائر کیا گیا ہے: ذرائع
اپ ڈیٹ 05 جون 2026 11:53am

اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مبینہ معاملے میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درج کیا گیا ہے، جو اداکارہ کی مدعیت میں دائر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ سمیرا خان اور دیگر ساتھیوں پر سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ اور غیر قانونی نگرانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر اداکارہ کی نگرانی کرتے رہے اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔

مقدمے میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ ثاقب چدھڑ کی پہلی شادی سے متعلق معلومات سامنے آنے پر مومنہ اقبال نے شادی سے انکار کیا، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں پرائیویٹ ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق 2023 میں بھی ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر جھوٹے الزامات لگا کر اداکارہ کا رشتہ ختم کروانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ فریقین کی جانب سے اس حوالے سے مزید مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

اُدھر سیشن کورٹ لاہور میں اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مبینہ کیس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔

عدالت نے ملزم کو 24 جون تک گرفتاری سے روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس دوران انہیں گرفتار نہ کریں۔

خیال رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال حال ہی میں حمزہ حبیب کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جس کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھیں۔